مواہب الرحمٰن — Page 147
مواهب الرحمن ۱۴۷ اردو تر جمه المتفرسون من الأغيار کے اہلِ فراست کو بھی نہیں دیا گیا اور جس کی نظیر والمحبين، ولم يُرَ مثله في سنين۔گزشتہ سالوں میں مشاہدہ میں نہیں آئی۔اور اس ولم يكن إذ ذاك لدى محفل وقت نہ میرے پاس کوئی جمعیت تھی اور نہ کوئی جتھا ولا احتفال ، وما كان يجيء اور نہ کوئی فرد یا افراد میری ملاقات کی تمنا لئے لِهَوَى ملاقاتی رجل ولا رجال، میرے پاس آتے تھے بلکہ میں ایسا گمنام تھا جسے بل کنت كمجهول لا يُعرَف، کوئی جانتا نہ تھا اور ایسا غیر معروف تھا جسے کوئی ونكرة لا تتعرف۔وكنت مذ پہچانتا نہ تھا۔اور جب سے میری آنکھ کھلی اور میرا فتحت عيني وفجرت عيني چشمہ رواں ہوا میں گوشہ نشینی کو پسند کرتا تھا تا أُحِبُّ الزاوية، لأروى النفس معارف کے پانی سے اپنے نفس کو سیراب کروں بماء المعارف وأنـجـي مـن العطش هذه الراوية فمضى اور ناقہ نفس کو شنگی سے نجات دلاؤں۔چنانچہ مجھے على دهر في هذه الخلوة لا پر اُس خلوت نشینی میں ایک زمانہ بیت گیا۔اور يعرفني أحد من الخواص ولا من خواص و عام میں سے مجھے کوئی بھی نہ جانتا تھا۔اور العامة۔وكنت في هذا الخمول میں اسی گمنامی میں پڑا رہا یہاں تک کہ میرا رب مجھ حتى تجلی علی ربی و بشرنی پر جلوہ گر ہوا اور مقبولیت کی مجھے بشارت دی اور بالقبول، وقال : " أرد إليك فرمایا کہ تیری تکفیر کرنے اور دشمن بن جانے کے بعد كثيرا من الوری، بعدما میں لوگوں کی کثیر تعداد کو تیری طرف پھیر لاؤ نگا اور كفروك وصاروا من العداء لا اس کے کلمات کوئی بدل نہیں سکتا اور اس کے فیصلے کو مبدل لكلماته ولا راد لما کوئی رو نہیں کر سکتا اور اس مدت تک جو اللہ نے قضى"۔وأفردت إلى مدة قدره اپنی حکمت سے میرے لئے مقدر کی تھی میں تنہا رہا اور الله لي من الحكمة، وغلب العدا وأشــاعـوا فـتـاوى تكفيري في دشمن غالب رہے۔اور انہوں نے میری تکفیر کے الأسواق والأزقة۔ثم أُلقي في فتوے بازاروں اور گلی کوچوں میں شائع کر دیئے۔پھر روعی، فأشعث أن وقت میرے دل میں ڈالا گیا کہ میں شائع کر دوں کہ میری النصر أتي، وجاء أوان الزهر نصرت کا وقت آن پہنچا ہے۔اور شگوفے کھلنے کا 119