مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 141

مواهب الرحمن ۱۴۱ اردو تر جمه الأخيار فإني لما أوصلتُ ہیں۔شرفاء کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ جب میں نے عزمى إلى أذنيك تراكمت اپنے عزم و ارادے کو تمہارے کانوں تک پہنچایا تو الظلمة على عينيك، وغشيك تمہاری آنکھوں پر ظلمت کے دبیز پردے پڑ گئے۔من الغم ما غشى فرعون من اليم، اور غم نے تمہیں ویسے ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا وآلت حالتك إلى سلب جیسے دریا نے فرعون کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔الحواس، وجعلك الله في اور تیرے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ تم حواس الأخسرين في هذا البأس۔ثم باختہ ہو گئے۔اور اللہ نے بحث کے اس مقابلہ میں امتد منك اللجاج لترك تمہیں خائب و خاسر کر دیا۔پھر ترک حیا کی وجہ الحياء ، لننكث عهد حضرة سے تمہاری لجاجت اور اصرار مزید بڑھ گیا تا کہ ہم الكبرياء۔فالعجب كل العجب ! اپنے بزرگ و برتر خدا کے ساتھ کئے ہوئے أأنت إنسان أو من العجماوات؟ وعدے کو توڑیں۔پس ( تمہارے مطالبے پر ) فإنك ترغبني فی نقض العهد یا انتہائی تعجب ہے۔کیا تم انسان ہو کہ حیوان؟ ارے ۱۱۳ ذا الجهلات۔وقد علمت أنك جاہل! کیا تم مجھے عہد شکنی کی ترغیب دیتے ہو خيرت في كل ساعة لتجديد حالانکہ تم جانتے ہو کہ تمہیں ہر وقت نئے سے نئے الشبهة، فليس الآن انحرافك شبہ کو پیش کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔لہذا اس إلا من فساد القلب وسوء النية۔وقت تمہارا انحراف محض تمہارے دل کے بگاڑ اور والذى أنزل المطر من الغمام بد نیتی کی وجہ سے ہے۔اُس خدا کی قسم جو وأخرج الثمر من الأكمام، لقد بادلوں سے بارش برساتا اور شگوفوں سے پھل نويت الفساد، وما نويت الصدق نکالتا ہے۔تمہاری نیت فساد کی ہے۔اور صدق و والسداد۔وكان الله يعلم أنك سداد کی نہیں۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کس لأى مكر وافيت القرية وحللت منصوبے اور سازش کے تحت اس بستی میں وعلى أي قصد أجـفـلـت ( قادیان آئے ہو۔نہ جانے تمہارے پیش نظر کو نسا