مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 137

مواهب الرحمن ۱۳۷ اردو تر جمه عندى واقعة ذالك المنون۔ہے۔گویا میں نے اپنی طرف سے ان اموات کا واقعہ شائع کیا ہے۔ترجمة ما كتبنا إلى ثناء الله شاء الله مرتسری کی طرف ہمارے محررہ مکتوب ۱۰۹ الأمر تسرى ، کا ترجمہ إذ جَاء قاديَان وَطَلَب رَفْعَ جب وہ قادیان آیا اور مصنوعی تخشکی کے ساتھ الشبهات بِعَطَشِ فرى، وكان اپنے شبہات کا ازالہ چاہا۔وہ شوال ۱۳۲۰ھ فَرِيٌّ، هذا عاشر شوّال سنة ١٣٢٠هـ کی دسویں تاریخ تھی جب یہ إذ جاء هذا الدجال د قال ( قادیان) آیا۔بلغنى مكتوبك، وظهر مطلوبك مجھے تمہارا مکتوب ملا۔اور تمہارے مقصد سے إنك استدعيت أن أزيل شبهاتك آگاہی ہوئی تم نے استدعا کی ہے کہ میں صلت بها على بعض أنبائی تمہارے ان شبہات کا ازالہ کروں جن سے تم نے الغيبية فاعلم أنك إن كنت میری بعض پیشگوئیوں پر حملہ کیا ہے سو جان لے کہ التي جئتني بصحة النية، وليس في اگر تم میرے پاس صحت نیت کے ساتھ آئے ہو قلبك شيء من المفسدة فلك أن تقبل بعض شروطى قبل اور تمہارے دل میں فساد کا کوئی خیال نہیں تو تم پر یہ لازم ہے کہ اس استفسار سے پہلے میری بعض شرائط هذا الاستفسار، ولا تخرج منها بل تثبت عليها كالأخيار وإن کو قبول کرو۔اور ان سے تجاوز نہ کرو بلکہ نیکوکاروں كنت لا تقبل تلك الشرائط کی طرح ان پر قائم ہو جاؤ۔اگر تمہیں یہ شرائط قبول فَدَ عُنِي وامض على وجهك نہیں تو مجھے میری حالت پر چھوڑ دو۔اپنی ڈگر پر چلو 10 وخُذْ سبيل رَجْعِك۔فمن اور اپنی واپسی کی راہ لو۔منجملہ ان شرائط کے ایک یہ الشروط أن لا تباحثنی ہے کہ تم میرے ساتھ مباحثہ کرنے والوں کی طرح كالمباحثين، بل اكتُبُ ما حاك بحث نہیں کرو گے۔بلکہ ہر شبہ جو تمہارے دل