مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 132

مواهب الرحمن ۱۳۲ اردو تر جمه فأجيبوا يا فتيان؟ وإنِّي أُعطيتُ معارف من ربّي، ثم علمتكم وصقلت بها الأذهان، وما كان گواہ نہیں ؟ یا تمہارے دلوں میں ابھی کوئی شبہ آياتي، أم لكم شبهة في الجنان؟ واتى رجل منكم ما رأى آية منى ہے؟ تم میں سے کون ایسا شخص ہے جس نے مجھ سے کوئی نشان نہیں دیکھا؟ سواے جوانو ! جواب دو۔مجھے میرے رب کی جناب سے معارف عطا کئے گئے۔پھر میں نے تمہیں سکھائے اور ان (معارف) کے ذریعہ تمہارے ذہنوں کو صیقل لكم بحل تلك العُقَدِ يَدَانِ۔و کیا۔جبکہ ان عقدوں کو حل کرنے کی تم میں طاقت نہ والله إني امرء أنطَقَنى الهدی تھی۔بخدا میں وہ جواں مرد ہوں جسے ہدایت خداوندی ونطق ظهری وحی یوحی نے قوت گویائی بخشی اور وحی الہی نے میری پشت کو فوجدتُ الراحة فى التعب مضبوط کیا جس کے نتیجے میں میں نے تکان میں والجنة في اللظى، فمن آثر راحت اور دوزخ میں جنت پائی۔پس جس نے الموت فَسَيُحْيى فلا تبيعوا موت کو اختیار کیا تو اُسے ہی زندگی دی جائے حياتكم بثمن بخس، ولا تنبذوا گی۔اس لئے اپنی زندگی کو سستے داموں مت بیچو۔اور نہ ہی اپنے ہاتھوں سے خالص نقدی پھینکو۔من الكف خلاصة نض، ولا اور ان لوگوں میں شامل نہ ہو جو دنیا کی طرف مائل تكونوا من الذين على الدنيا ہوتے ہیں پس تم نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم مسلمون إني اخترت الله موتا يتمايلون، ولا تموتوا إلا وأنتم فرمانبردار ہو۔میں نے اللہ کی خاطر موت کو اختیار کیا۔پس تم بھی اس کی خاطر دکھ اختیار فاختاروا له وَصَبًا، وإني قبلت له کرو۔میں نے اس کی خاطر ذبح ہونا قبول کیا پس ذبحا فاقبلوا له نصبًا واعلموا تم اس کے لئے تکلیف کو قبول کرو۔اے عقلمندو! أنكم تُفلحون بالصدق جان لو کہ تمہیں صرف صدق ، اخلاص اور تقویٰ کے والإخلاص والاتقاء ، لا بالأقوال ذریعے ہی کامیابی و کامرانی عطا کی جائے گی نہ کہ