مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 120

مواهب الرحمن ۱۲۰ اردو ترجمہ في عهد أبي كعهد ربّي ۔ وإذ رآني کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے رب کے عہد میں عافیت اور راحت کا جو مزہ چکھا ہے وہ اپنے والد في ضلالة الحب وبشــرنـي کے عہد میں بھی نہیں چکھا۔ اور جب اُس نے مجھے بالهداية، فوالله جذبنی کل عشق و محبت میں گم دیکھا تو اس نے مجھے ہدایت کی الجذب وأجرى إلى بحار الدراية ۔ بشارت دی۔ پھر بخدا اُس نے بگھی مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور فہم و درایت کے سمندروں کو میری وإذ قال إني سأغنيك ولا طرف جاری کر دیا۔ اور جب اُس نے کہا کہ میں أتركك في الخصاصة، فوالله مجھے جلد غنی کر دوں گا اور تجھے تنگدستی میں پڑا نہیں أنعم على وعلى من معى من فوج رہنے دوں گا۔ تو بخدا، اس نے مجھ پر اور میرے ساتھ اصحاب صفہ کی فوج پر ( بے انتہا ) من أصحاب الصفة۔ هذه قصتى انعام فرمائے ۔ یہ ہے میری داستان۔ پھر بھی یہ ثم يجعل الحاسدون من العلماء فی حسد کرنے والے علماء میرا شمار دجالوں میں کرتے ہیں ۔ یہ (علماء ) دین و ملت کے ضعف کو الدجالين حصتي ۔ لا يرون ضعف نہیں دیکھتے بلکہ اس ضعیف کو ضعیف تر کرتے چلے شم الدين والملة، بل يُضعفون الضعيف جا رہے ہیں اور اُسے عیسائیت کی کچلیوں میں ويتركونه في الأنياب النصرانية۔ ( پیسنے کے لئے ) چھوڑ رہے ہیں۔ التعليم للجماعة تعلیم برائے جماعت صلى الله لا يدخل في جماعتنا إلا الذی ہماری جماعت میں صرف وہی داخل ہوتا ہے جو دخل في دين الإسلام، واتبع دین اسلام میں داخل ہے اور جس نے کتاب اللہ كتاب الله وسنن سيدنا خير اور ہمارے سیدو سید الانام علي و مولا خیر الا نام ﷺ کی سنن کی الأنام، وآمن بالله ورسوله پیروی کی ۔ اور اللہ اور اس کے رسول کریم و رحیم ، اور جنت اور دوزخ پر ایمان لایا اور وہ شخص والنشر والجنة والجحيم ۔ ويعد حشر نشر اور جنت ا ويقر بأنه لن يبتغى دينا غير دين یہ عہد اور اقرار کرتا ہے کہ وہ بجز دینِ اسلام کسی اور الكريم الرحيم، وبالحشر