مواہب الرحمٰن — Page 120
مواهب الرحمن ۱۲۰ اردو تر جمه في عهد أبي كعهد ربّي۔وإذ رآني کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے رب کے عہد میں (۹۲) في ضلالة الحب وبشرني عافیت اور راحت کا جو مزہ چکھا ہے وہ اپنے والد کے عہد میں بھی نہیں چکھا۔اور جب اُس نے مجھے بالهداية، فوالله جذبني كل عشق و محبت میں گم دیکھا تو اس نے مجھے ہدایت کی بشارت دی۔پھر بخدا اُس نے بکلی مجھے اپنی الجذب وأجرى إلى بحار الدراية۔طرف کھینچ لیا اور فہم و درایت کے سمندروں کو میری وإذ قال إني سأغنيك ولا طرف جاری کر دیا۔اور جب اُس نے کہا کہ میں أتركك في الخصاصة، فوالله تجھے جلد غنی کر دوں گا اور تجھے تنگدستی میں پڑا نہیں رہنے دوں گا۔تو بخدا، اس نے مجھ پر اور میرے ساتھ اصحاب صفہ کی فوج پر ( بے انتہا ) أنعم على وعلى من معى مِن فوج من أصحاب الصفة۔هذه قصتى " انعام فرمائے۔یہ ہے میری داستان۔پھر بھی یہ ثم يجعل الحاسدون من العلماء في حسد کرنے والے علماء میرا شمار دجالوں میں کرتے ہیں۔یہ (علماء ) دین وملت کے ضعف کو الدجالين حصتي۔لا يرون ضعف نہیں دیکھتے بلکہ اس ضعیف کو ضعیف تر کرتے چلے الدين والملة، بل يُضعفون الضعيف جا رہے ہیں اور اُسے عیسائیت کی کچلیوں میں ويتركونه في الأنياب النصرانية۔( پینے کے لئے ) چھوڑ رہے ہیں۔تعلیم برائے جماعت التعليم للجماعة لا يدخل في جماعتنا إلا الذي ہماری جماعت میں صرف وہی داخل ہوتا ہے جو دخل في دين الإسلام، واتبع دین اسلام میں داخل ہے اور جس نے کتاب اللہ كتاب الله وسنن سيدنا خیر اور ہمارے سید و مولا خیر الا نام ﷺ کی سنن کی الأنام، وآمن بالله ورسوله پیروی کی۔اور اللہ اور اس کے رسول کریم و رحیم ، الكريم الرحيم، وبالحشر حشر نشر اور جنت اور دوزخ پر ایمان لایا اور وہ شخص والنشر والجنة والجحيم۔ويعد ويقر بأنه لن يبتغى دينا غیر دین یہ عہد اور اقرار کرتا ہے کہ وہ بجز دین اسلام کسی اور