مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 112

۹۰ مواهب الرحمن ۱۱۲ اردو تر جمه وما نفع شربُ الأدوية، ولا تعهد اور ادویات کے استعمال اور محلوں، گلی کوچوں الحارات والأزقة والمنازل اور وبازده مقامات کی نگہداشت نیز ہر مضر صحت چیز کا الموبوءة، وإزالة كل ما كان ازالہ کرنے نے کوئی فائدہ نہ دیا۔تمام تدابیر بدرجہ کمال مضرا بالصحة۔وقد بلغت اختیار کی گئیں اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آتشِ التدابير منتهاها، ثم مع ذالك۔نرای نـار الـطـاعـون يزيد لظاها طاعون کے شعلے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔اور اب۔وما تقلص إلى هذا الوقت هذا تك يہ مہلک بیماری کم نہیں ہوئی اور اس کی یہ الداء الوبيل، وما انقشعت تاریکیاں ذرہ بھر بھی نہیں چھٹیں بلکہ اُس کی تند و غياهبه إلى قدر قلیل، بل تیز آندھیاں ہر روز بیخ کنی کر رہی ہیں اور اس کے صراصره كل يوم مجيحة زلزلے تباہی مچارہے ہیں۔اور طبیبوں کی عقلیں وزلازله مبيدة، وعقول الأطباء حیرت زدہ اور ان کی دانش سراسیمہ ہے۔اور یہ متحيرة ، وأحلامهم مبهوتة۔ولم مرض گندی جگہوں تک ہی محدود نہیں جیسا کہ ابتدا يقتصر هذا المرض على المحال میں خیال کیا گیا تھا۔بلکہ یہ (مرض) گندی اور صاف القذرة كما ظن في الابتداء، بل زار القذرة وغيرها على السواء، ودخل دونوں جگہوں پر یکساں پہنچا ہے۔اور تمام بستیوں جميع الربوع وع والأحياء ، وفجع اور قبیلوں میں داخل ہو گیا۔اور اس نے وہاں کے كثيرا من أهلها وملأ البيوت من بہت سے باسیوں کو دکھ پہنچایا اور گھروں کو آہ و بکا سے الصراخ والبكاء وتواترت بھر دیا۔اور اس کے خوفناک زلزلے اور ہولناک بجلیاں زلازلــه الـــــمفزعة، وصواقعه پے درپے آئیں۔اور وہ طرح طرح کا عذاب لیے المريعة، ودخل كل بلدة بأنواع بستی میں داخل ہوا لیکن پنجاب میں ڈیرا ڈالنا اُسے ہر العذاب، ولكن طابت له الإقامة بہت ہی بھلا لگا اور کوئی جگہ ایسی باقی نہ رہی جو في الفنجاب وما بقيت أرض لم طاعون کی زد میں نہ آئی ہو، اور کوئی گھر ایسانہ رہا جہاں تحدث فيها إصابة ما من الطاعون، ولم يبق دار لم يرتفع فيها سے نوحہ ءموت کی آواز میں بلند نہ ہوئی ہوں۔اور یہ أصوات المنون فما ذالك إلا جزاء سب کچھ محض اُنکے اعمال کی جزاء اور قول وفعل