مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 40 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 40

40 میں موجودہ روسی سفارت خانے (Legation) کو گہر ا دخل ہے۔اس کے بعض قریبی رشتہ دار روسی لیکیشن (Legation) سے وابستہ تھے۔اس کا بہنوئی عبد المجید آہی روسی نمائندے مقیم ایران پرنس ڈول گور کی کا پرائیویٹ سیکریٹری تھا۔اس کا پھوپھا مرزا یوسف روسی شہری اور پرنس کا بہترین دوست تھا۔اس کے علاوہ اس کے خاندان کے لوگوں کی روس میں رشتہ داریاں، سیاسی روابط اور کاروبار تھے۔ایک لحاظ سے یہ خاندان روس کا خود کاشتہ پودا تھا۔“ (صفحہ 78) 5۔”جون 1848ء میں بدشت کانفرنس کے انعقاد کے تمام انتظامات اسی نے کئے۔طاہرہ کو قزوین میں نظر بندی سے رہائی دلوائی اور دیگر سر کر دہ باہیوں کو بدشت میں جمع کیا۔اس کا نفرنس میں باب کی رہائی کی تجاویز پر بحث کی گئی۔اسلامی شریعت کی تنسیخ کا اعلان ہوا اور بابیت کو پھیلانے کے لئے ایک پروگرام تیار کیا گیا۔اس سازش کے پیچھے سب سے بڑا کردار حسین علی کا تھا۔باب اور دیگر بابیوں کو محض مہروں کے طور پر استعمال کیا گیا۔اسلامی شریعت کی تنسیخ کے اعلان کے بعد غیر ملکی طاقتوں کو بابی اقلیت کے تحفظ کا موقع حاصل ہو گیا اور ہر طرح کی مدد دینے کا جواز پید اہو گیا۔(صفحہ 79) 15-6 اگست 1852ء کو کئی بابی گرفتار ہوئے۔بہائیوں کا یہ کہنا کہ بیس ہزار بابی بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دئے گئے اور زندہ جلا دئے گئے ، قعط غلط اور تاریخی حقائق کو مسخ کر کے اپنی مظلومیت کو ظاہر کرنے کی گھٹیا حرکت ہے۔بعض واقعات سے معلوم ہو تا ہے کہ حسین علی بہاءشاہ کے قتل کے منصوبے سے پہلے سے آگاہ تھا۔شاہ پر قاتلانہ حملہ سے قبل حسین علی نے کربلا میں باہیوں سے رابطہ کیا اور واپسی پر وزیر اعظم مرزا تقی کے بھائی کے پاس شمران میں قیام کیا۔ایرانی دربار میں حسین علی کا نام بابی سازشیوں میں سر فہرست تھا۔شاہ ناصر الدین کی والدہ آقا جان وزیر جنگ اور حسین علی پر کھلے بندوں قتل کی سازش کا الزام لگاتی تھی۔3 آخر کار حسین علی کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے گئے لیکن جب اسے گرفتار کر کے تہران لایا جارہا تھا تو روسی لیکیشن (Legation) نے اس کو اپنے ہاں پناہ دے دی۔یہ ایک غیر متوقع اور غیر معمولی اقدام تھا۔ایک قتل کے ملزم کو پناہ دینا سفارتی آداب کے منافی تھا۔اس امر کی اطلاع شاہ ایران اور وزیر اعظم کو دی گئی۔شاہ ایران نے اپنے اعلیٰ افسروں کو روسی لیکیشن روانہ کیا جنہوں نے روسی سفیر پرنس ڈول گور کی سے پر زور مطالبہ کیا کہ شاہ کے قتل میں ملوث اس ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے لیکن لیکیشن نے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار کر دیا۔4 حکومت کے مسلسل دباؤ کے نتیجہ میں پرنس ڈول گور کی سفیر روس نے وزیر اعظم ایران کو