مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 328
328 مسلم سر بر اہان کا نفرنس 1974ء میں عیسائی وفد کے لیڈر کی تقریر کا مکمل متن ذیل میں کا نفرنس میں عیسائی وفد کے لیڈر کی تقریر کا مکمل متن دیا جاتا ہے جو کانفرنس کی سرکاری رپورٹ کے صفحہ 84 سے 87 پر مع تصویر درج ہے۔یادر ہے کہ حضرت مسیح کے آسمانی صعود اور ان کے خالق طیور اور محی الاموات کے عقیدوں میں تمام غیر احمدی دنیا متفق ہے۔مگر جماعت احمد یہ 1889ء سے اب تک ان غلط عقائد اور صلیب پرستی کے خلاف سر گرم جہاد ہے اس لئے قیام جماعت سے لے کر اب تک عیسائی بشپ، پادری اور عیسائی مولف سب دوسرے فرقوں کے مخالف احمدیت علماء کے دوش بدوش تحریک احمدیت کے خلاف محاذ قائم کئے ہوئے ہیں۔خصوصاً 1974،1953 اور 1984ء میں تو پاکستان کے مسیحی لیڈروں نے اپنے بیانات میں ڈٹ کر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی تائید کی ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود نے اس لئے دعویٰ مسیحیت کے آغاز میں ہی مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے نہایت درد بھرے دل سے یہ حقیقت بیان فرما دی تھی کہ بحمد اللہ کہ خود قطع تعلق کرد ایں قومے خدا از رحمت واحساں میسر کرد خلوت را مسیح ناصری را تا قیامت زندہ سے فہمند مگر مدفون یثرب را ندادند این فضیلت را ہمہ عیسائیوں را از مقال خود مدد دادند دلیری با پدید آمد پرستاران میت را (ترجمہ) الحمد للہ اس قوم نے خود ہی مجھ سے قطع تعلق کر لیا اور خدا نے مہربانی اور کرم سے ( خدمت دیں کے لئے۔ناقل ) خلوت میسر کر دی۔یہ مسیح ناصری کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت نہیں دی انہوں نے اپنے عقیدہ سے تمام عیسائیوں کی مدد کی۔اسی وجہ سے مردہ پرستوں میں بھی دلیری آگئی۔اس پس منظر میں اب عیسائی وفد کے لیڈر کی تقریر ملاحظہ فرمائیے۔