مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 308
308 ہو کر راہی ملک عدم ہوا۔ٹھیک اسی سال حضور کو ماہ مارچ میں پہلا الہام ماموریت ہوا جس میں آپ کو الہاماً بتایا گیا کہ باطل مذاہب اور فلسفوں پر دین اسلام کا عالمی غلبہ آپ کے ظہور سے مقدر ہے۔حضرت اقدس نے 1882ء میں ہی یہ الہام براہین احمدیہ حصہ دوم میں شائع کرتے ہوئے ایک نہایت بصیرت افروز نوٹ بھی شائع فرمایا جس میں قرآنی فلسفہ معاشیات پر بھی روشنی ڈالی اور انیسویں صدی کے مغربی فلاسفروں اور مفکروں کی نام نہاد تحقیقات کی دھجیاں بکھیر دیں چنانچہ حضور نے آیت:- أَهُمُ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا - (الزخرف: 33) کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرمایا: یعنی کفار کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کے بڑے بڑے مالداروں اور رئیسوں میں سے کسی بھاری رئیس اور دولت مند پر کیوں نازل نہ ہوا۔تا اس کی رئیسانہ شان کے شایان ہو تا اور نیز اس کے رعب اور سیاست اور مال خرچ کرنے سے جلد تر دین پھیل جاتا۔ایک غریب آدمی جس کے پاس دنیا کی جائداد میں سے کچھ بھی نہیں کیوں اس عہدے سے ممتاز کیا گیا (پھر آگے بطور جواب فرمایا) أَهمُ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ- کیا قَنامِ ازل کی رحمتوں کو تقسیم کرنا ان کا اختیار ہے۔یعنی یہ خداوند حکیم مطلق کا فعل ہے کہ بعضوں کی استعدادیں اور ہمتیں پست رکھیں اور وہ زخارف دنیا میں پھنسے رہے۔اور رئیس اور امیر اور دولتمند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوب حقیقی کی محبت میں محو ہو کر مقرب بن گئے اور مقبولان حضرت احدیت ہو گئے۔(پھر بعد اس کے اس حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس اختلاف استعدادات اور تباین خیالات میں مخفی ہے) نحن قسمنا بينهم معیشتھم۔یعنی ہم نے اس لئے بعض کو دولتمند اور بعض کو درویش اور بعض کو لطیف طبع اور بعض کو کثیف طبع اور بعض طبیعتوں کو کسی پیشہ کی طرف مائل اور بعض کو کسی پیشہ کی طرف مائل رکھا ہے۔تا ان کو یہ آسانی پیدا ہو جائے کہ بعض کے لئے بعض کا ربر آر اور خادم ہوں اور صرف ایک پر بھار نہ پڑے اور اس طور پر مہمات بنی آدم