مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 309
309 بآسانی تمام چلتے رہیں۔اور پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں دنیا کے مال و متاع کی نسبت خدا کی کتاب کا وجود زیادہ تر نفع رساں ہے۔یہ ایک لطیف اشارہ ہے جو ضرورت الہام کی طرف فرمایا۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے اور بجز ایک دوسرے کی مدد کے کوئی امر اس کا انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔مثلاً ایک روٹی کو دیکھئے جس پر زندگانی کا مدار ہے۔اس کے طیار ہونے میں کس قدر تمدن و تعاون درکار ہے۔زراعت کے تر ڈد سے لے کر اس وقت تک کہ روٹی پک کر کھانے کے لائق ہو جائے، بیسیوں پیشہ وروں کی اعانت کی ضرورت ہے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ عام امور معاشرت میں کس قدر تعاون اور باہمی مدد کی ضرورت ہو گی۔اسی ضرورت کے انصرام کے لئے حکیم مطلق نے بنی آدم کو مختلف طبیعتوں اور استعدادوں پر پیدا کیا۔تاہر ایک شخص اپنی استعداد اور میل طبع کے موافق کسی کام میں یہ طیب خاطر مصروف ہو۔کوئی کھیتی کرے۔کوئی آلات زراعت بناوے۔کوئی آٹا پیسے۔کوئی پانی لاوے۔کوئی روٹی پکاوے۔کوئی سوت کاتے۔کوئی کپڑا بنے۔کوئی دوکان کھولے۔کوئی تجارت کا اسباب لاوے۔کوئی نوکری کرے اور اس طرح پر ایک دوسرے کے معاون بن جائیں اور بعض کو بعض مدد پہنچاتے رہیں۔پس جب ایک دوسرے کی معاونت ضروری ہوئی تو ان کا ایک دوسرے سے معاملہ پڑنا بھی ضروری ہو گیا۔اور جب معاملہ اور معاوضہ میں پڑ گئے اور اس پر غفلت بھی جو استغراق امور دنیا کا خاصہ ہے ، عائد حال ہو گئی تو ان کے لئے ایک ایسے قانون عدل کی ضرورت پڑی جو ان کو ظلم اور تعدی اور بغض اور فساد اور غفلت من اللہ سے روکتار ہے۔تا نظام عالم میں ابتری واقعہ نہ ہو کیونکہ معاش و معاد کا تمام مدار انصاف و خداشناسی پر ہے اور التزام انصاف وخدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے۔جس میں دقائق معدلت و حقائق معرفت الہی بدرستی تمام درج ہوں اور سہو یا عمداً کسی نوع کا ظلم یا کسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔اور ایسا قانون اسی کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جس کی ذات سہو و خطا و ظلم و تعدی سے بکلی پاک ہو۔اور نیز اپنی ذات میں واجب الانقیاد اور واجب التعظیم بھی ہو۔کیونکہ گو کوئی قانون عمدہ ہو مگر قانون کا جاری کرنے والا اگر ایسانہ ہو جس کو باعتبار مر تبہ اپنے کے سب پر فوقیت اور حکمرانی کا حق ہو۔یا اگر ایسا نہ ہو جس کا وجو دلوگوں کی نظر میں ہر