مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 284
284 1956ء کے دستور میں صدر مملکت کے لئے مسلمان کا ہونا ضروری قرار دیا گیا مگر اس کے لئے کوئی حلف نامہ مسلمان ہونے کا شامل قانون نہیں کیا گیا تھا۔کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرقہ پرست ملاؤں کو شکست دے کر ہی ہر کلمہ گو مسلمان کو تحریک پاکستان کے جھنڈے تلے جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔کلمہ طیبہ ہی کی برکت سے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔لہذا اس کے دستور میں کلمہ کے سوا مسلم کی کوئی دستوری پہچان قرار نہیں دی جاسکتی تھی۔جناب اعجاز حسین بٹالوی تحریک پاکستان کے نامور راہنما) تحریر فرماتے ہیں: ”حقیقت یہ ہے کہ جناح مسلمانوں کا سب سے پہلا سیکولر لیڈر تھا جس نے ہماری سیاست کو پیشہ ور مولویوں کے پنجے سے نجات دلائی اور ہم کو کانسٹی ٹیوشن، وحدانی حکومت، قانون پارلیمنٹری جمہوریت اور اکثریت واقلیت کے مسائل پر دور حاضر کے جدید تقاضوں سے غور کرنا سکھایا۔“3 احراری ایجی ٹیشن جو انہوں نے بظاہر آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے نعرہ بھی سے شروع کی تھی، دراصل پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کے خاتمہ اور اکھنڈ بھارت بنانے کی سوچی سازش تھی جو بری طرح ناکام ہوئی۔اس لئے احرار لیڈروں کی اکثریت نے نہر وایجنڈا پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مشرقی پاکستان کا رخ کیا اور ان کی اکثریت حسین شہید سہر وردی صاحب کی عوامی لیگ میں شامل ہو گئی تا مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان دشمنانِ پاکستان نے جن نفرتوں کا بیج بو دیا تھا ، ان کی آبیاری کر کے اسے تناور درخت بنادیں۔بنگلہ دیش کے سابق صدر اور وزیر خارجہ جناب کھنڈ کر مشتاق احمد صاحب کا بیان ہے: اس وقت کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش میں اور اس وقت کے مغربی پاکستان اور آج کے پاکستان میں متعدد چھوٹے چھوٹے مسائل نے سنگین اہمیت اختیار کرلی دونوں خطوں کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا۔ان کے مابین انڈر سٹینڈنگ اور ہم آہنگی نہ تھی۔بہت سے عناصر نے جن کا مفاد وابستہ تھا ان اختلافات کو ہوا دی۔آپ کو شاید یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ایسے مسائل بھی اٹھائے گئے اور نوبت یہانتک پہنچ گئی کہ یہ تک کہا گیا کہ مشرقی پاکستان کے مسلمان صحیح معنوں میں سچے مسلمان نہیں ہیں گویا ہمیں مسلمان ہونے کے لئے بھی سرٹیفکیٹ درکار تھا۔یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہم مسلمان ہیں ، ہمیں مغربی پاکستان کے لیڈروں سے فتویٰ