مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 272
272 یہ باون یاتر بین سال پہلے کی بات ہے۔غالباً 1943ء میں جالندھر میں مجلس احرار کے جلسے کا اعلان ہو ا۔جلسہ گاہ کھچا کھچ بھری تھی اور عطاء اللہ شاہ بخاری بول رہے تھے۔موضوع پاکستان تھا اور انہوں نے اپنے زور خطابت میں کہا کہ ”ہمارے دکھوں اور مصائب کا علاج پاکستان نہیں اور پاکستان نہیں بنے گا۔“ قوم بیدار ہو چکی تھی اور ہم جیسے پندرہ سولہ لڑکوں میں پاکستان کا خون سرایت کر چکا تھا۔ہم میں سے احسان محسن (مرحوم) غصے میں چلایا ” آپ جھوٹ بول رہے ہیں “۔کارکنان احرار ہماری طرف لیکے مگر شاہ صاحب نے انہیں خاموش کروا دیا اور یوں گویا ہوئے ”ہاں میں جھوٹا ہوں اس لئے کہ میں حافظ قرآن ہوں۔میں جھوٹا ہوں کہ میری بیوی حافظ قرآن ہے۔میں جھوٹا ہوں کہ میری بیٹی حافظ قرآن ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ پاکستان نہیں بنے گا، ہر گز نہیں بنے گا۔اگر یہ بن پایا اور میں زندہ رہا تو میرے منہ پر آکر تھوک دینا اور میں زندہ نہ ہوا تو میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا۔“ اس کے بعد احراری کارکنوں نے ہم پر طعن و ملامت کی اور ہمارے سمیت بہت سے اور نوجوان جلسے سے اٹھ آئے۔یہ 3" آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا واقعہ ہے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری امیر شریعت احرار نے پاکستان ، قائد اعظم اور مسلم لیگی مسلمانوں کو گالیاں دینے کے گزشتہ تمام ریکارڈ مات کر دیئے۔ان کے ملت اسلامیہ کے خلاف سیاہ جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ان کا اپنا اعتراف ہے کہ :- ” میں نے قائد اعظم کے بوٹ پر اپنی داڑھی رکھی ، پر وہ نہ پیجے۔85 یہ تو احراری لیڈروں کی تحریک پاکستان سے شرمناک نفرت و حقارت اور بغض وعناد کا عالم تھا۔خود بائی احرار ابو الکلام آزاد صاحب کے مشتعل جذبات اس باب میں نہ صرف احرار کے مقابل بلکہ متعصب ترین ہندوؤں سے بھی ہزار قدم آگے تھے اور آتش فشاں کی طرح ان کے دل و دماغ لاوا اگلتے رہے۔ان کا عقیدہ تھا کہ پاکستان کا نام ہی سرے سے قرآن و اسلام کے خلاف ہے جو میرے لئے نا قابل برداشت ہے۔البتہ وہ یہودی ریاست کے حامی ہیں کیونکہ مسلم ممالک تو موجود ہیں مگر ان مظلوموں اور مسکینوں کے پاس سر چھپانے کو کوئی وطن موجود نہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں :- "I must confess that the very term Pakistan goes against my grain۔It suggests that some portions of the world