مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 271
271 بائیسویں فصل تحریک پاکستان کا نگرس اور احرار کی شدید مخالفت جیسا کہ اپنے مقام پر مفصل روشنی ڈالی جاچکی ہے۔جماعت احمد یہ برٹش انڈیا میں واحد مذہبی جماعت تھی جس نے اپنے امام ہمام کی قیادت میں مارچ 1940ء کی تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے دوش بدوش مثالی اور بھر پور حصہ لیا۔اس کے مقابل آل انڈیا کانگرس اور احراری دیوبندی علماء نے مطالبہ پاکستان کی آخر دم تک ڈٹ کر مخالفت کی اور اس کے خلاف زہر افشانی، اشتعال انگیزی اور بد زبانی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔کانگرس کے سدھائے ہوئے مسلمان کارندے“ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1945ء میں ملکی انتخاب سے قبل ہی مسلمانان ہند کو پیغام دیتے ہوئے انتباہ کر دیا تھا کہ :- ” مجھے معلوم ہے کہ ہمارے خلاف بعض طاقتیں کام کر رہی ہیں اور کانگرس ارادہ کئے بیٹھی ہے کہ ہماری صفوں کو ان مسلمانوں کی امداد سے پریشان کر دیا جائے جو ہمارے ساتھ نہیں۔مجھے افسوس ہے کہ وہ مسلمان ہمارے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہیں۔یہ مسلمان ہمارے خلاف مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے کام میں بطور کارندے استعمال کئے جارہے ہیں۔یہ مسلمان سدھائے ہوئے پرندے ہیں۔یہ صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی مسلمان ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگرس کے پاس دولت کے وسیع خزانے ہیں۔ان کے پاس مضبوط تنظیم اور پر لیں ہے مگر حق ہمارے ساتھ ہے۔1 احرار کے ”امیر شریعت“ نے پسرور میں تقریر کرتے ہوئے کہا کسی ماں نے ایسا بیٹا نہیں جناجو پاکستان کی پ بھی بنا سکے۔“2 جالندھر کے ایک مسلم لیگی ممبر جناب سید عبد القدیر صاحب کی چشم دید شہادت ہے کہ :- ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس احرار کے نامور خطیب اور اپنی پر سوز خوش الحانی کی بناء پر ہر دلعزیز تھے۔ان کا نام ہی کسی جلسہ میں تل بھر جگہ نہ بیچنے کی ضمانت تھا۔