مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 214
214 شریف خان تو رہ کو اسی طرح ایک کان میں شہید کیا گیا۔روسی ماہرین نے چینیوں کو ایذارسانی کے ان طریقوں کی تربیت دینے کے لئے تربیتی نصاب بھی جاری کئے جن میں بتایا جاتا تھا کہ ایذارسانی کے طریقوں کو کس طرح عمل میں لایا جائے۔سیاسی پولیس کے دفتر میں کس طرح کام کیا جائے اور رازوں کو کس طرح چھپایا جائے اور جرائم کا اعتراف کس طرح کرایا جائے۔اس مقصد کے لئے ہر ضلع میں کم از کم پانچ سو افراد کی گنجائش کے قید خانے بھی تعمیر کئے گئے۔روسیوں نے مشرقی ترکستان میں قدم جمالینے کے بعد تطہیر کی مہم شروع کی۔انہوں نے تین لاکھ افراد کو جن میں خواجہ نیاز بھی شامل تھے قید کر دیا۔بعد میں ان میں سے کئی ہزار افراد کو شہید کر دیا۔ان شہداء میں خواجہ نیاز بھی شامل تھے۔باقی لوگوں کو قید خانوں میں ٹھونس کر غیر انسانی انداز میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔روسیوں نے اس زمانے میں جو مظالم کئے ان کی تفصیل کے لئے پوری ایک کتاب درکار ہے۔روسیوں کے ان مظالم کے خلاف بطور رڈ عمل1934ء اور 1937ء کے در میان بر قول میں، 1940ء میں التائی میں اور 1950ء میں پھر بر قول میں بڑے پیمانے پر بغاوتیں ہوئیں۔1934ء اور 1951ء کے درمیان پاکستان اور ہندوستان کی طرف جو ہجر تیں ہوئیں، ان کا تفصیلی حال میں اپنی خود نوشت میں کروں گا۔مختصر یہ کہ مغربی ترکستان کے مشہور شاعر چوپلان 6 نے جن روسی مظالم کا اپنے تند و ترش اشعار میں ذکر کیا ہے وہ سب مشرقی ترکستان میں ہوئے۔“ روضہ رسول صلی ا م میں نقب زنی حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ (وفات 1642ء) اپنی شہرہ آفاق کتاب ”جذب القلوب الى ديار المحبوب “ میں تحریر فرماتے ہیں: ”یہ واقعہ 557ھ میں واقع ہوا۔کہتے ہیں کہ سلطان نور الدین سید محمود بن زنگی کہ جمال الدین اصفہانی جس کا وزیر تھا۔اس نے سرور انبیاء صلی علیکم کو تین دفعہ