مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 200 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 200

200 تعلقات اچھے رکھیں۔خواجہ مالوی جی کے بھگت بنیں۔لیکن خدا را جوش عقیدت یا ہنگامہ آرائی میں ایسے الفاظ کے استعمال سے بچیں جن سے صراحتا اسلام کی توہین ٹپکتی ہے۔18" فروری 1928ء کا واقعہ ہے کہ مولوی ظفر علی خاں نے سکھ تبلیغ کا نفرنس میں وعظ کیا کہ ”ایک غلام ملک میں کوئی تبلیغ نہیں ہو سکتی۔“ یہ فقرہ آنحضرت صلی ایم کے مکی دور کی تمام سرگرمیوں پر ایک شرمناک حملہ تھا جس پر اخبار انقلاب نے 26 فروری 1928ء کو ”کیا تبلیغ اسلام روک دی جائے۔ایک نیافتنہ “ کے زیر عنوان پر زور ادار یہ لکھا جس میں 16 فروری 1928ء کے اخبار ”زمیندار“ سے کانفرنس کی روداد کے تعلق میں مولوی صاحب کے اس فقرہ کو خاص طور پر نقل کیا کہ ” تبلیغ کے لئے فضا ساز گار ہونی چاہیے۔تبلیغ جنگ کی حالت میں نہیں ہو سکتی اس کے لئے صلح در کار ہے۔“ انقلاب نے مسلم زعماء سے پوچھا کہ کیا قادیانی اور لاہوری احمدی اور دوسری جماعتیں جو تبلیغ اسلام کا کام کر رہی ہیں ”کیا یہ تمام ادارے اور نظام فضول تھے اور فضول ہیں۔انہیں جلد بند کر دینا چاہیے۔انقلاب نے اپنے اداریہ میں یہ بھی انکشاف کیا کہ مولوی ظفر علی خاں پنڈت جواہر لال نہرو جیسے دہریہ اور سوشلسٹ رہنما کے مشن ہی کی تکمیل کر رہے ہیں جن کے نزدیک ”غلاموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا“۔19 مولوی ظفر علی صاحب نے یہ لکھ کر نہر دو گاندھی سے اپنے خفیہ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کر دیا کہ ”اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچنے پر آزادی حاصل ہو جائے تو میں مسلمانوں کے فوائد کو آزادی پر قربان کر دینے کو تیار ہوں۔“20 بالکل یہی ذہنیت انتہا پسند اور متعصب ہندو لیڈروں اور ہندو پریس کی تھی۔چنانچہ اخبار ”پر تاپ“ نے مورخہ 24 ستمبر 1930ء کالم 3 میں لکھا۔”ہندوستان میں اگر رہنا ہے تو ہندوستانی مسلمان بن کے رہنا پڑے گا۔فرقہ داری کی اجازت نہ کسی اور ملک میں دی گئی ہے نہ ہندوستان میں دی جاسکتی ہے۔غلامی منظور مگر فرقہ داری نامنظور۔“21 مسلمانان ہند کو مولوی ظفر علی خاں کے ہندو کانگرس کے در پر دہ ایجنٹ ہونے کا پتہ چلا تو اُن کے خلاف قہر وغضب کی ایک زبر دست لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔بنگلور میں تو ان کی تقریر کے دوران ہنگامہ ہو گیا۔اگر وہ بھاگ نہ جاتے تو یقینا پٹ جاتے۔اس ضمن میں بنگلور کے ایک نامہ نگار جناب محمد قاسم