مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 192
192 کا نگر میں کو اس کا پابند نہیں کر سکتے تھے۔لیکن انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ میں کانگریس کو اس کے تسلیم کرنے پر آمادہ کرونگا اور کوئی شخص جو کانگریس میں ان کی حیثیت کو جانتا ہوشبہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ کانگرس سے اس بات کو منوانے میں ضرور کامیاب ہو جاتے۔لیکن ان کی بات کسی نے نہ مانی اور سیچ بھی ہے۔آغا خاں کو آزادی ہند کی حمایت میں کمر بستہ تصور کرنا بھی ذرا مشکل ہے۔نیز لکھا۔دو 9% یہ ایک حقیقت بالکل ظاہر تھی کہ اس وقت جب ہماراملک انتہائی مصیبت کے دور سے گزر رہا تھا اور ہماری عورتیں اور مرد حیرت انگیز بہادری کا ثبوت دے رہے تھے ، ہمارے بعض وطن پرست ان سب چیزوں کی طرف سے آنکھیں بند کر کے ہمارے حریفوں کو اخلاقی مدد پہنچارہے تھے۔ہم پر یہ بات اور بھی واضح ہو گئی کہ قوم پرستی کے پردے میں متضاد معاشی اغراض کام کر رہے ہیں اور وہ لوگ جو مستقل حقوق کے مالک ہیں اسی قوم پرستی کے نام سے آئندہ کے لئے اپنے حقوق کی حفاظت کا انتظام کر رہے ہیں۔گول میز کانفرنس صریحی طور پر ان ہی لوگوں کی ایک جماعت تھی۔ان میں سے اکثر نے ہماری تحریک کی مخالفت کی تھی اور بعض دور سے تماشا دیکھا کرتے تھے اور کبھی کبھی ہمیں جتا دیتے تھے کہ ان لوگوں کی خدمت بھی کچھ کم نہیں جو موقع کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں۔مگر یہ انتظار کا زمانہ لندن کی نگاہ ناز کے ایک اشارے میں ختم ہو گیا۔اور یہ سب حضرات وہاں دوڑے گئے کہ اپنے اپنے حقوق کی حفاظت کریں اور جو کچھ مال غنیمت ہاتھ آجائے اس میں حصہ بٹائیں۔لندن میں یہ صف بندی کرنے میں اس خیال سے اور بھی عجلت کی گئی کہ کانگرس کی انتہا پسند کی بڑھتی جاتی ہے اور اس پر عام لوگوں کا اثر غالب آتا جاتا ہے۔مستقل حقوق کے مالکوں میں خود بخود یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اگر ہندوستان میں کوئی بنیادی سیاسی تبدیلی ہوئی تو عام لوگوں کا طبقہ حاوی ہو جائے گا یا کم سے کم اس کی اہمیت بڑھ جائے گی اور وہ یقینا بنیادی سماجی تبدیلیوں پر زور دے گا جس سے ان کے مستقل حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے۔اس خطرے کو دیکھ کر یہ حضرات گھبر ائے اور انہوں نے یہ کوشش شروع کر دی کہ کوئی اہم سیاسی تبدیلی نہ ہونے پائے۔وہ چاہتے تھے انگریز ہندوستان