مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 182
182 انیسویں فصل مسلمانان ہند کے مطالبہ سے غداری سر اقبال نے اجلاس مسلم لیگ الہ آباد 1930ء میں ایک خطبہ دیا جس میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ مسلمانان ہند کا متفقہ مطالبہ ہندوستان میں مسلم ریاست کا قیام ہے۔اور یہی مطالبہ نہرو کمیٹی میں پیش کیا گیا جسے کمیٹی نے اس بناء پر رڈ کر دیا کہ اس کے نتیجہ میں ملک کا وسیع رقبہ مسلمانوں کے اقتدار میں چلا جائے گا۔چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اس موقع پر مسلمانان ہند کے قومی مطالبہ کی پر زور وکالت کر کے اسکی تائید میں سیاسی اور قانونی نکات کا دریا بہا دیتے۔الٹا انہوں نے مسلم مفاد سے غداری کرتے ہوئے اپنی ذاتی تجویز پیش کی کہ مسلمانوں کی تسلی کے لئے سرحد ، سندھ ، بلوچستان اور صرف مسلم اکثریت کے اضلاع پنجاب پر مشتمل شمال مغربی ہند کو ایک مسلم صوبہ بنا دیا جائے اور ساتھ ہی رام راج کے حامی کا نگر سی لیڈروں کی خدمت میں عرض کیا :- ”ایسی مجوزہ ریاست تو بعض ہندوستانی صوبوں سے بھی کم ہو گی۔ادھر اگر ضلع انبالہ اور شاید دوسرے اور اضلاع کو الگ کر دیا جائے جہاں غیر مسلموں کی آبادی ہے تو پھر یہ وسعت اور بھی گھٹ جاتی ہے۔“ پھر بتایا، “اس چیز سے مسلمانوں میں احساس ذمہ داری بڑھ جائے گا اور اُن کے احساس وطن کو بھی زبر دست تقویت پہنچے گی۔وہ ہندوستان کے بہترین رکھوالے اور محافظ ثابت ہوں گے۔"1 آل انڈیا نیشنل کانگرس مسلمانوں میں قومیت متحدہ کا جو تصور اپنے احراری اور دیوبندی ایجنٹوں کے ذریعہ مسلط کرنا چاہتی تھی، یہ خطبہ صدارت اس کا شاہکار تھا۔ویسے بھی انہوں نے خطبہ کے شروع میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ”میں نہ تو کسی جماعت کا قائدور ہنما ہوں اور نہ کسی کا پیر وہوں۔“2 بنابریں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں اس ذاتی تجویز پر کسی قرار داد کے منظور کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہ ہو تا تھا۔خصوصاً اس لئے کہ اس ذاتی تجویز نے مسلمانان ہند کے اصل مطالبہ کورڈی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور صرف ایک صوبہ کے قیام پر قناعت کی گئی۔جہاں تک مسلمانوں کے سب سے بڑے خطہ یعنی اکثریتی صوبہ بنگال کا تعلق تھا، اسے ہند و سودیش تحریک سے دلی ہم آہنگی کے باعث