مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 10
10 آزاد عبوری حکومت کو تسلیم کر لیا جائے اور اسی غرض کے لئے راجہ مہندر پرتاپ نے ماسکو کا دورہ کیا۔لینن نے خوش آمدید کہا اور ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا لیکن جو نہی وہ کابل واپس پہنچے، جرمنی اور ترکی کو جنگ میں شکست ہو گئی اور افغانستان نے برطانیہ کے ساتھ امن کا معاہدہ کر لیا۔اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی نام نہاد عبوری حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا مگر ساتھ ہی ابو الکلام آزاد اور دوسرے دیو بندی علماء کی کمیٹی اور غدر پارٹی دونوں نے گاندھی کی سربراہی میں ملک بھر میں بد امنی اور فساد کا ایک طوفان برپا کر دیا۔چنانچہ بھارت کے ایک انقلابی مصنف بھگت سنگھ کا بیان ہے :- 18" 19" ” پہلی جنگ عظیم کے وقت غدر پارٹی کو خلافت کے روپ میں انگریز کے خلاف لڑائی کرنے کے لئے ایک ساتھ مل گیا تھا۔غدر پارٹی، خلافتی اور بنگال کے انقلابیوں نے اس لڑائی سے فائدہ اٹھا کر انگریزی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے ملک کو آزاد کرانے کا بیٹر ا اُٹھایا۔" ظاہر ہے کہ اس آزادی کا دوسرا نام ہندو راج تھا۔کا نگر سی لیڈر پنڈت نہرو نے کانپور میں تقریر کرتے ہوئے صاف طور پر اعتراف کیا کہ۔” میں ایسا ہی ہندو ہوں جیسے خود پنڈت مالوی ہیں۔میں ایک قدم بڑھ کر کہتا ہوں کہ خود کانگرس ہندو جماعت ہے۔اس میں 1920-21ء میں تھوڑے سے مسلمان شریک ہو گئے تھے ورنہ وہ ابتدا ہی سے ہند و جماعت ہے۔1927ء میں آل انڈیا نیشنل کانگرس کے بائیں بازو کے سوشلسٹ لیڈر پنڈت جواہر لال نہر وصاحب یورپ گئے اور سوشلسٹوں کی دعوت پر برسلز کی سوشلسٹ کانفرنس میں شرکت کی۔بعد ازاں وہ ماسکو گئے اور ایک خصوصی اجلاس میں سٹالین (Stalin) سے ملاقات کی۔20 اور پھر ملک میں واپسی کے ایک سال بعد 31 دسمبر 1929ء کو کانگرس کے اجلاس راوی میں مجلس احرار کا قیام عمل میں آیا۔احراری لیڈروں نے جو تحریک خلافت ہی سے کانگرس سے ساز باز کئے ہوئے تھے ، پنڈت نہرو اور کانگرس کے پروگرام کے مطابق نہ صرف سوشلزم کے حق میں پر زور پر اپیگنڈا کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا بلکہ جماعت احمدیہ کے خلاف سیاسی اور مذہبی طور پر اشتعال انگیز تقریروں سے پورے ملک میں فرقہ پرستی کی آگ بھٹر کا دی۔1935ء میں انڈیا ایکٹ کا نفاذ ہونے والا تھا جس کے نتیجہ میں مسلم اقلیت کو اپنی آبادی کے تناسب سے سیاسی حقوق کا فیصلہ ہو چکا تھا۔آل انڈیا کانگرس نے مسلم حقوق پر ضرب کاری لگانے کے