مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 132 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 132

132 نہیں سکتے۔۔۔۔اب ہم ایک ہندوستانی قوم اور ناقابل تقسیم ہندوستانی قوم بن چکے ہیں۔علیحدگی کا کوئی بناوٹی تخیل ہمارے اس ایک ہونے کو دو نہیں بنا سکتا۔ہمیں قدرت کے فیصلہ پر رضامند ہونا چاہئے اور اپنی قسمت کی تعمیر میں لگ جانا چاہئے۔8% مسلمانان ہند کی تو ہین اور ہندوؤں کی تعریف جناب آزاد نے مسلمانوں کو ایک بد بخت اور زبوں طالع قوم کے ذلت آمیز اور قابل شرم نام سے یاد کیا اور لکھا کہ آئندہ مورخ یہ لکھے گا کہ ہندوؤں نے ملکی ترقی اور ملکی آزادی کے لئے جہاد کیا۔وہ اٹھے اور انہوں نے اپنی تمام قوموں کو ملکی جہاد کے لئے صرف کر دیا۔“ دنیا یا د رکھے گی کہ جو کچھ ہوا، اس قوم کی سر فروشی سے ہوا جو مسلم نہ تھی۔پر جو مسلم “ تھے انہوں نے ہمیشہ آزادی کی جگہ غلامی کی اور سر بلندی کی جگہ سجدہ مذکت کی کوشش کی۔۔۔۔ملک کو حکومت کی خود اختیاری ملی تو صرف ہندوؤں۔قابل عزت ہندوؤں، مسلمانوں کے لئے تازیانہ عبرت، ہندوؤں کی وجہ کیونکہ انہوں نے پالیٹکس (Politics) شروع کی اور پھر پالیٹکس کو سمجھا۔مگر مسلمانوں نے اس کو معصیت سمجھ کر کنارہ کشی کی اور جب شروع بھی کیا تو شیطان نے سمجھایا کہ گورنمنٹ کے آگے سجدہ کریں یا اس کے آگے بھیک مانگنے کے لئے روئیں۔پھر مانگیں بھی تو اشرفی نہیں، چاندی سونا نہیں ، لعل و جواہر نہیں بلکہ تانبے کا ایک زنگ آلود ٹکڑایا سوکھی روٹی کے چند ریزے۔“و یہی آزاد انباء الالیم" کے زیر عنوان گاندھی کی شرمناک ثناء خوانی کرتے ہوئے انہیں مجاہد فی سبیل اللہ کے لقب سے نوازتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: 9" ”مسٹر گاندھی نے اس راہ میں اپنی جان اور مال دونوں لٹا دیا پس فی الحقیقت وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہیں اور بانفسهم وباموالھم کے ہر دومر احل جہادِ مقدس سے گزر چکے ہیں۔“ پھر مسلمانان ہند کی صریح تو ہین کا ارتکاب کرتے ہوئے انہیں بدبخت مسلمان کے نام سے یاد کیا اور لکھا: افسوس کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر مسلمان غافل ہیں اور جس صف میں انہیں سب سے آگے ان کے خدا نے رکھا تھا اپنی بد بختی سے اُس میں سب سے پیچھے بھی ہیں۔"