مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 5
5 اور اسی بناء پر فوجی عدالت نے بالا تفاق فیصلہ دیا کہ ”ملزم محمد بہادر شاہ سابق بادشاہ دہلی تمام جرائم کے مجرم ہیں۔6 اس فیصلہ کے نتیجہ میں جو ہندوؤں کی مفتریانہ اور جھوٹی شہادت کی بناء پر کیا گیا، بہادر شاہ ظفر رنگون میں قید کر دیئے گئے اور غریب مسلمان انگریزوں کے جوش انتقام سے تباہ و برباد ہو گئے اور چالاک ہند و و سرمایہ دار وقتی طور پر انگریزی حکومت کی اطاعت کا دم بھر کے کلیدی محکموں اور ملازمتوں پر چھا گیا۔دوسری طرف برٹش انڈیا کا مسلمان برسوں تک انگریزوں کا معتوب رہا۔ہند وساہوکاروں اور سرکاری افسروں نے اس پر ترقی کے دروازے مسدود کر دیئے، حتٰی کہ اس کی قومی ہستی بھی خطرے میں پڑ گئی۔دسمبر 1895ء میں چند معتدل مزاج انگریزوں نے جن میں اے اوہیوم (A۔O۔Hume) سر ڈبلیو ویڈرز برن (Sir W۔Weddar Burn) سرڈیوڈیول (Sir David Yule) اور سر ہنری کاٹن (Sir Henry cotton) بھی شامل تھے ، بمبئی میں آل انڈیا نیشنل کانگرس کی بنیاد رکھی۔یہی تینوں انگریز 1885ء سے 1900 ء تک اس کے پریذیڈنٹ تھے۔کانگرس کا بنیادی مقصد تو یہ تھا کہ بلا تمیز مذہب و ملت ملک کے تمام باشندوں کو ملکی مشینری اور معیشت وسیاست میں نیابت دی جاسکے مگر شروع ہی سے عملاً یہ ہندوؤں ہی کی نمائندہ جماعت بن گئی۔7 جس پر مسلمانوں کے بیدار مغز اور مدبر لیڈر سرسید احمد خان (1817ء۔1898ء) نے 1892ء میں مطالبہ کیا کہ لیجسلیٹو کو نسلوں اور لوکل باڈیز میں مسلمانوں کو خاطر خواہ تعداد میں نمائندگی دی جائے۔انہوں نے قبل ازیں 1886ء میں محمڈن اینگلو ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم کی اور واضح کیا کہ مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں اور ان کی روایات، ان کے مفادات ، ان کی سیاسی اور سماجی مصروفیات اور میلانات، ان کی مذہبی رسوم اور عقائد علیحدہ اور ہندوؤں سے یکسر مختلف ہیں۔اس لئے مسلمان نمائندوں کا انتخاب بھی جداگانہ ہونا چاہیے۔8 لارڈ کرزن ہندوؤں کے بیدار مغز اور رعایا پر ور وائسرائے تھے۔انہوں نے محکمہ آثار قائم کر کے مسلمانوں کی تاریخی عمارتوں اور ہند ودور کے آثار کو محفوظ کیا اور نہ صرف مسلمانوں کے جدا گانہ انتخاب کا حق تسلیم کیا بلکہ 1905ء میں تقسیم بنگال کا جرات مندانہ اقدام کر کے مشرقی بنگال کو ایک الگ صوبہ بنا دیا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔اس طرح عرصہ بعد دوبارہ بنگالی مسلمانوں کے پھلنے پھولنے کی راہ ہموار ہو گئی مگر بقول سید رئیس احمد جعفری: ”یہ اتنا بڑا حادثہ ہند وسامراج کے لئے تھا کہ ہندوؤں میں ایک شورش پیدا ہو گئی۔انارکسٹ اور دہشت انگیز لوگ پیدا ہو گئے، بم پھٹنے لگے ، گولیاں چلنے لگیں،