مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 110 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 110

110 ہندوؤں کی سوشلسٹ سود بیشی ایجی ٹیشن میں شرکت پکے دہر یہ ہونے کے بعد آزاد نے ہندوستان کے ہندوؤں کے نام کارل مارکس کے پیغام پر پُر جوش لبیک کہا اور آل انڈیا نیشنل کانگرس اور بنگال کے دہشت گرد ہندوؤں کی انقلابی پارٹی میں شامل ہو گئے اور راجہ موہن رائے اور کیشیب چندر سین جیسے فرقہ پرستوں کو اولوالعزم مصلح قرار دینے لگے۔2 یہی نہیں غدر پارٹی کے سرگرم ممبر کی حیثیت سے ہندوؤں سے بڑھ کر مشرقی بنگال کے ستم رسیدہ اور مظلوم اور بے کس غریب مسلمانوں کی مخالفت شروع کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے ملتی جسم میں نہایت بے دردی سے خنجر گھونپ دیا۔اُن کا اپنا بیان ہے کہ :- لارڈ کرزن کی تقسیم بنگال کے آگے بنگال نے سر جھکانے سے انکار کر دیا اور وہاں اس قدر زبر دست مخالفانہ شورش برپا ہوئی کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔آربند و گھوش نے کلکتہ سے کرم یوگن کے نام سے ایک اخبار جاری کر کے غیر ملکی حکومت کے خلاف بغاوت کی تخم ریزی شروع کر دی۔یہ انقلابی تحریک و تنظیم جس نے پورے بنگال اور بنگال سے باہر دور دراز تک اپنے اثرات پھیلا دئے تھے، مسلمانوں پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں تھی“۔”تمام انقلابی جماعتیں مسلمانوں کی مخالفت میں سر گرم عمل ہو گئیں گویا انگریز حکومت کا یہ منشا پورا ہونے لگا کہ مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور بر طانوی حکومت انقلابیوں کی زد سے محفوظ رہے۔انگریز کی اس خطر ناک چال کو ناکام بنانے کے لئے ضروری تھا کہ انقلابیوں کے ساتھ میرا ربط وضبط پیدا ہو۔اور میں انہیں یہ باور کر اسکوں کہ مسلمان بحیثیت ایک جماعت کے ہر گز ان کے دشمن نہیں ہیں اور چند مسلمان سرکاری ملازمین کا فعل پوری مسلمان امت کی ترجمانی نہیں کرتا۔اس مقصد کے لئے میں نے انقلابی رہنما شیام سندر چکرورتی سے کسی طرح رابطہ کیا۔انقلابیوں میں ان کا بڑا احترام تھا ان کے ذریعہ دوسرے انقلابی کارکنوں سے ملا۔آر ہندو گھوش سے بھی کئی بار ملاقات کی حتٰی کہ میں نے انقلابی تحریک کو اپنی خدمات با قاعدہ پیش کر دیں۔اور نوجوانوں کی ایک بڑی جماعت میں نے تیار کر لی۔“ یہی وہ سال ہے جس میں اقبال اور آزاد کے خُفیہ مراسم وروابط قائم ہوئے۔3