مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 106
106 ان لوگوں نے دو سال تک گورداسپور کی آمد ورفت کی جو تکلیف حضرت امام اور آپ 5" کے خدام کو دی وہ تاریخ زمانہ میں ایک یاد گار رہے گی۔“5 حضرت مسیح موعود اور ہندوؤں کی باغیانہ پالیٹکس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سودیشی تحریک کی نسبت اظہار خیال کرتے ہوئے یہ رائے دی۔اس تحریک کی ابتدا املکی اشیاء کی ہمدردی سے نہیں بلکہ تقسیم بنگالہ پر بنگالیوں کی 6% ناراضگی اس کی جڑ ہے۔اس واسطے یہ امر منحوس معلوم ہوتا ہے۔“6 حضرت اقدس نے بنگالی ہندوؤں کی شورش سے جماعت احمدیہ کو بالکل الگ رہنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔” ہماری جماعت کو بالکل ان سے الگ رہنا چاہیے۔تعجب کی بات ہے کہ جو قوم حیوان کو انسان پر ترجیح دیتی ہو اور ایک گائے کے ذبح سے انسان کا خون کر دینا کچھ بات نہ سمجھتی ہو وہ حاکم ہو کر کیا انصاف کرے گی۔7 فرمایا:- اس تاکیدی فرمان کے بعد اپنے عہد مبارک کے آخری جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انتباہ ”ہندوؤں سے بالکل جوڑ نہ رکھیں۔اگر انگریز آج یہاں سے نکل جاویں تو یہ 8" ہند و مسلمانوں کی بوٹی بوٹی کر دیں۔“ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی آخری تصنیف ”پیغام صلح“ میں دو قومی نظریہ کی زبر دست تائید کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا: یہ بات ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مسلمان اس بات سے کیوں ڈرتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق کے مطالبات میں ہندوؤں کے ساتھ شامل ہو جائیں اور کیوں آج تک اُن کی کانگریس کی شمولیت سے انکار کرتے رہے ہیں اور کیوں آخر کار ہندوؤں کی درستی رائے محسوس کر کے اُن کے قدم پر قدم رکھا مگر الگ ہو کر اور ان کے مقابل پر ایک مسلم انجمن قائم کر دی مگر ان کی شراکت کو قبول نہ کیا۔صاحبو اس کا باعث دراصل مذہب ہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔“و 9"