مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 105
105 ” اس ملک کے ہندوؤں نے خدا تعالیٰ کے اس فضل واحسان کا شکریہ ادا نہیں کیا جو کہ آیت كريم وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔(النحل:15) جہازوں کی آمد ورفت کا جو نتیجہ ہے وہ خدا کا ایک فضل ہے جس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔اور اس سے کیا تجارت میں اور کیا ساہوکارہ میں اور کیا زراعت میں اور کیا ملازمت میں سب سے زیادہ فائدہ ہندوؤں نے ہی حاصل کیا ہے لیکن انہوں نے ہی سب سے زیادہ ناشکری کی اور ان سے اس سے زیادہ کچھ امید بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ جو مشرک اپنے حقیقی محسن خالق مالک رب کو چھوڑ کر ایک پتھر کے آگے سر جھکاتا ہے، اس سے کیا اُمید ہو سکتی ہے کہ وہ کسی انسان کے احسان کو شکریہ کے ساتھ دیکھے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے احسانات کے مقابلہ میں انسان کے احسان ہی کیا ہو سکتے ہیں۔وہ جس نے خدا کے ساتھ ہی بغاوت کی ہو وہ اپنے ہم جنس انسان کے ساتھ کب نیک سلوک کریگا۔خدا تعالیٰ کے حضور اس ناشکر گزاری میں ہندو لوگ جو حصہ لے رہے ہیں وہ تو ظاہر ہی ہے لیکن آریہ لوگ دراصل ان سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی مخلوق ہو کر وہ کہتے ہیں کہ نہ ہماری روح کا وہ خالق ہے اور نہ ہی ہمارے جسم کے مادہ کا وہ خالق ہے۔پھر زمانہ کو بھی خدا کا مخلوق نہیں مانتے یہ کس قدر ناشکری ہے جو ان لوگوں سے ظاہر ہو رہی ہے۔گورنمنٹ برطانیہ کے ذریعہ سے آریوں کو جو آرام اور فائدہ حاصل ہوا ہے زراعت میں، اس سے ظاہر ہے کہ مدت کی بات ہے ایک دفعہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ پانچ کروڑ روپیہ کی جائیداد ہر سال مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ہندوؤں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔سرکاری ملازمت میں دیکھو تو تمام بڑے بڑے عہدے علی العموم ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں اور کیا مجال ہے کہ کسی مسلمان کو معمولی دفتر کی کلر کی میں ہی حتی الوسع رہنے دیں۔ہاں دفاتر کے چپڑاسی اور فراش مسلمان رکھ لئے جاتے ہیں۔پھر مقدمات میں مسلمانوں اور بالخصوص احمدیوں کے ساتھ ہند و مجسٹریٹوں کا جو سلوک ہے وہ چند ولعل اور آتمارام کے مقدمات کرنے سے ظاہر ہے کہ وہ مقدمہ جس کو ایک انگریز نے بغیر اس کے کہ ہمارے امام بلکہ اس کے خدام کو بھی کوئی تکلیف ہو ، ایک ہی روز میں فیصلہ کر دیا، اس پر