مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 48 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 48

48 باغ کہلاتا ہے۔یہاں اس نے اپنی ایک ہفتے کی خیالی حکومت چلائی اور اکثر وقت وعظ اور نماز میں بسر کرتا تھا۔وہ بہ آواز بلند کہتا تھا کہ اے مجاہد و، قلعے پر جاؤ کیونکہ اب فرنگی موجود نہیں۔وہ قرآن سے نیک فال نکال کر اعلان کرتا۔مسلمان کئی مرتبہ اس کی ہدایت پر قلعے کی جانب آئے لیکن فصیل پر نصب توپوں کو دیکھ کر واپس ہو گئے۔راستے میں وہ عام لوگوں کی شامت لاتے۔اس طرح وہ کئی بار قلعے پر آئے لیکن مایوس واپس لوٹے۔14 جون کو قلعہ میں موجود صاحبان نے ایک انگریز افسر کے ماتحت کچھ سکھ سپاہیوں کو قلعے سے باہر روانہ کیا تاکہ سرکشوں کو سزا دے سکیں۔لیکن مولوی کے ساتھیوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث یہ دستہ واپس قلعے میں چلا گیا۔نیتجے مولوی کا حوصلہ اور بھی بڑھ گیا اور کہنے لگا۔خدا نے میری دعا قبول کر لی۔دیکھو خدا کی مد د سے انگریزوں کو باہر نکال دو۔اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ قلعے سے فائر کیا گیا۔کوئی بھی گولہ انہیں نقصان نہ پہنچا سکا تھا۔انہوں نے سمجھا کہ مولوی صاحب نے اپنی برکت سے انگریزوں کی تو ہیں بیکار بنادی ہیں، مگر یہ غلط فہمیاں جلد ہی دور ہو گئیں۔14 تاریخ کو سکھ پیاروں کا ایک کثیر التعداد گر وہ دریاباد جہاں کی جانب روانہ ہو ا جہاں میواتی باغی قیام پذیر تھے۔دریائے جمنا کے راستے سے بھی دخانی جہاز پر گورا فوج کا ایک دستہ اسی مقام کی طرف بھیجا گیا، ان دونوں افواج نے وہاں جاکر خوب قتل عام کیا اور باغیوں کو سبق سکھایا۔سرکشوں کو شکست فاش ہوئی اور مولوی صاحب اسی شب فرار ہو گئے۔یوں اس کی چند روزہ حکومت ختم ہوئی۔اسی شخص کی وجہ سے الہ آباد کے لوگوں نے بڑے دن دیکھے۔اوپر مذکور مولوی صاحب نے شاہ اودھ الہ آباد اور قرب وجوار کے دیگر مقامات میں دواشتہار لگائے تھے۔ایک صاحب کی مہربانی سے وہ دونوں اشتہارات را قم کو دستیاب ہوئے چنانچہ ان کی تفصیل ذیل میں برائے معلومات درج کی جارہی ہے۔“ (آگے مولف نے دونوں اشتہار نقل کر دیئے ہیں مگر یہاں صرف اشتہار اول منظوم کے چند اشعار پر اکتفا کریں گے)