مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 47
47 شہر میں گونجتی رہی۔تمام قیدی مل کر صاحبان کی جانب روانہ ہوئے اور تمام بنگلوں کو جلا دیا۔انہوں نے اور سرکش سپاہیوں نے سب سے پہلے رجمنٹ 6 سے متصل اجین صاحب کے بنگلے کو جلایا اور پھر برل صاحب کی کوٹھی کو آگ لگائی۔یوں وہ آگ لگاتے لگاتے ڈاک خانے تک پہنچے اور ایسلی ہاؤس، میجر ہور ہوس، مسز ہیملٹن اور پامر صاحب کے بنگلوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔بنگلوں کو نذر آتش کرنے اور مال اسباب لوٹ لینے کے بعد قیدی گردو نواح میں پھیل گئے۔بعض نے اپنے گھروں کا رخ کیا اور کچھ سرکش سپاہی لوٹے ہوئے مال کی بار برداری کے لئے پکڑے گئے۔اکثر نے رعایا کا مال اسباب غارت کرنا شروع کر دیا۔اگلے روز یعنی 8 جون کو ساری فوج پریڈ گراؤنڈ پر جمع ہوئی اور فیصلہ کیا کہ خزانہ کو آپس میں تقسیم کر لیں جو ہمیں لاکھ روپے تھے۔اگر چہ قبل از میں یہ سارا خزانہ شاہ دہلی کو پیش کرنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن حرص نے ساری تدبیر بدل دی اور تمام مشوروں پر حرص غالب آگئی۔دو پہر دو بجے کے قریب خزانے کے صندوق کھلے۔کسی سپاہی نے روپے کے تین توڑے، کسی نے چار توڑے اٹھائے (فی تو ڑا ہزار روپے کا تھا)۔جب ان میں مزید روپیہ اٹھانے کی ہمت نہ رہی تو قیدیوں اور شہر کے بد معاشوں کو حکم دیا کہ باقی ماندہ روپیہ آپس میں تقسیم کر لیں۔اس واقعہ کے فوراً بعد ایک مولوی صاحب نے (جن کا نام معلوم نہیں ہو سکا) انگریز سرکار کے خلاف سرکشی کا علم بلند کر کے اکثر بد معاشوں کو جمع کیا۔مشہور ہے یہ شخص کسی مکتب میں پڑھاتا تھا، لیکن جب ان احسان فراموش سپاہیوں نے عام فساد برپا کیا اور ان کی سرکوبی کے لیے گورا فوج موجود نہ رہی تو اس نے بھی سرکار کے خلاف سرکشی شروع کر دی۔اگرچہ حکومت چند روز تھی لیکن دو باتیں کھل کر سامنے آگئیں : اول یہ کہ مسلمانوں میں اتفاق کی شہرت بے بنیاد نہیں، دوسرے یہ کہ مسلمان انگریزوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔کیونکہ جس وقت مسلمانوں نے سنا کہ ایک مولوی کھڑا ہوا ہے تو روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں اس کے پاس آنے لگے۔سب کا مطمح نظر یہ تھا کہ انگریزوں کا بالکل صفایا کر دیں۔مولوی اپنے جلسے چھاؤنی کے جنوب مغربی گوشے میں واقع ایک باغ میں لگایا کرتا تھا جو سلطان خسرو کا