مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 26 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 26

26 مزد کیہ کا احیاء ہابیت کی شکل میں تحریک بابیت اسی شیعہ فرقہ مزدکیہ کے احیاء کا نام ہے جو اسی کے خمیر سے کارل مارکس کے فلسفہ سوشلزم کی تائید کے لئے ایران میں اس وقت اٹھی جبکہ اس سر زمین میں تمام آئمہ اہلبیت کی خدائی اور موجودہ قرآن مجید کے جعلی ہونے کے عقائد مدتوں کے پراپیگنڈا کے نتیجہ میں عوامی حلقوں میں راسخ ہو چکے تھے اور دشمنان اسلام کا یہ باطل خیال شیعوں کا جزوایمان بن چکا تھا کہ اصل قرآن کو بکری کھا گئی ہے۔21 مزد کیوں کی طرح بابیت نے بھی اپنی سیاسی سر گرمیوں کا آغاز دہشت گردی اور بغاوت ہی کی سکیم سے کیا۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ دانش گاہ پنجاب لاہور میں زیر لفظ با بیت لکھا ہے :- ”باب کے دعوے کے ساتھ ہی بابیوں نے مسلح اقدامات شروع کر دیئے۔باب کے دعویٰ پر ابھی آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ بعض بابیوں نے شاہ ایران پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔صاحب ناسخ التواریخ نے صاف صاف لکھا ہے کہ ایران میں سیاسی انقلاب لانے کے لئے کوفے سے مسلح بغاوت کی سکیم باب نے تیار کی تھی اور میرزاجانی کاشانی (جو بابی مذہب کا سب سے پہلا موید مورخ ہے) کے الفاظ بھی خاصی حد تک اس کی تائید کرتے ہیں ( نقطة الکاف صفحہ 111) پھر بابیوں کی بہت سی سر گرمیاں مخفی بھی تھیں۔اس حقیقت کو غیر جانبدار مصنف براؤن اور جانب دار میرزاجانی کا شانی دونوں نے تسلیم کیا ہے ( مقالہ سیاح انگریزی ترجمہ تعلیقات از بر اون صفحہ 80-409)۔بابی تاریخ کے آغاز سے پہلے ملک میں جو سیاسی خلفشار تھا اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور فرقہ باطنیہ اور حسن بن صباح کی آزمائشیں لوگوں کے سامنے تھیں۔1840ء میں سبعہ شیعہ ایک بغاوت کر چکے تھے اور اس سے صرف چار سال بعد بابی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔(89۔The Babi Movement-P) حکومت ایران میں سوشلسٹ انقلاب بر پا کرنے کے لئے ضروری تھا کہ قدیم مزد کیوں کی طرح ایک نئی کتاب کے نزول کا دعوی کر کے شیعہ عوام کی مذہبی ہمدردیاں حاصل کی جائیں اس لئے باہیوں نے بھی یہ سیاسی حربہ استعمال کیا۔یہی نہیں باہیوں کے بانی رکن بہاء اللہ نے اپنی کتاب اقتدار میں یہ اقرار کر کے اس سیاسی چال کے چہرے سے نقاب سر کا دیا ہے جو عذر گناہ بد تر از گناہ کا مصداق ہے۔لکھتے ہیں ”اگر اعتراض واعراض اہل فرقاں نبود ہر آئینہ شریعت فرقاں دریں ظہور نسخ نے شد۔22 یعنی اگر شیعہ علماء اور قاچار حکومت اعراض و اعتراض نہ کرتی تو اسلامی شریعت کی منسوخی کی