مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 335
335 تاریخ کا انتقام سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے قادیان میں 2 جولائی 1935ء کے خطبہ جمعہ میں عالمی جماعت احمدیہ کو خطاب کرتے ہوئے نہایت پر شوکت الفاظ میں فرمایا: ”ہماری جماعت تاریخی ہے۔آئندہ کوئی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی جب تک جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ذکر نہ کرے۔یہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے عنقریب دنیا پر چھا جانے والی ہے۔پس جو کچھ تم سے ہو رہا ہے اس کا بدلہ تاریخ لے گی اور آج جولوگ تمہارے حقوق تلف کر رہے ہیں، ان کی نسلیں انہیں گالیاں دیں گی کیونکہ کون ہے جو اپنے آباء کی شرارتوں کا ذکر تاریخوں میں پڑھ کر شرمندہ نہیں ہوتا۔بے شک آج لوگ ہم پر ظلم کر کے ہنتے ہیں جس طرح رسول کریم ملی کم پر اونٹوں کی اوجھڑی ڈالنے والے ہنستے تھے۔ان لوگوں کو کیا معلوم تھا کہ ان کی اس حرکت کو ہزار سال تک یادر کھا جائیگا اور ہمیشہ کے لئے ان کی ناک کاٹنے کا موجب ہو جائیگی۔آج بھی ہمارے دشمن اور بعض حکام خوش ہوتے ہیں اور اسے ایک کھیل سمجھتے ہیں مگر انہیں کیا معلوم ہے کہ یہ باتیں تاریخوں میں آئیں گی۔بڑے سے بڑے مورخ کے لئے یہ ناممکن ہو گا کہ ان واقعات کو نظر انداز کر دے کیونکہ انکے بغیر اسکی تاریخ نامکمل سمجھی جائیگی۔پڑھنے والے ان باتوں کو پڑھیں گے اور حیران ہونگے ان لوگوں کی انسانیت پر جنہوں نے یہ افعال کئے اور حیران ہونگے ان حکام کے رویہ پر جنہوں نے علم کے باوجود کوئی انتظام نہ کیا اور آنیوالی نسلوں کی رائے انکے خلاف ہو گی۔ان کی وہ چیز جس کیلئے انسان جان کی قربانی کر سکتا ہے یعنی نیک نامی بر باد ہو جائے گی۔“ (روزنامه " الفضل“ 20 جولائی 1935ء صفحہ 5-6)