مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 288 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 288

288 دیکھ رہے تھے۔اور وہ چاہتے تھے کہ پہلے زینہ کے طور پر وہ اولین کارنامہ سیاست متفقہ آئین کی صورت میں انجام دیں۔انہوں نے اس مطالبہ کے سامنے بھی گھٹنے ٹیک دیئے اور صدر اور وزیرا کے لئے درج ذیل الفاظ میں حلف شامل آئین کر لیا گیا۔میں ایک مسلمان ہوں اور قادر مطلق کی توحید ، اللہ تعالیٰ کے صحیفوں، قرآن کریم جوان صحیفوں میں آخری ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور ان کے نبی آخر الزمان ہونے اور ان کے بعد کسی اور نبی کے نہ ہونے، روز حساب اور قرآن کریم وسنت کی تمام تعلیمات و مقتضیات پر مکمل ایمان رکھتا ہوں۔“5 اب مسودہ آئین بالاتفاق پاس ہو گیا۔12 اپریل 1973ء کو صدر مملکت چوہدری فضل الہی صاحب نے اس کی توثیق کر دی اور اسے 14 اگست 1973ء کو نافذ کر دیا گیا۔چور دروازے سے غیر مسلم قرار دینے کی شاطرانہ چال یہ حلف نامہ در پردہ چور دروازے سے خدا کی پاک اور حقیقی مسلمان جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے کی شاطرانہ چال تھی جس کے معابعد پاکستان دشمن ملاؤں نے مطالبہ کیا کہ اس حلف نامہ کی بنیاد پر ”مسلم “ کی ایسی تعریف کی جائے جس سے پاکستان کے احمدی باقی مسلمانوں سے یکسر کاٹ دیئے جائیں۔ساتھ ہی بھٹو صاحب کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی خاطر یہ سراسر جھوٹا اور مفتریانہ پر اپیگنڈا وسیع پیمانے پر شروع کر دیا کہ ”مرزائی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ڈالا: 6" ہیں۔“6 حتی کہ شورش کا شمیری صاحب نے چنیوٹ میں ایک اشتعال انگیز تقریر میں یہاں تک کہہ ”اگر بھٹو کی ایک انگلی کا خون بھی بہایا گیا تو میں سب سے پہلے اپنی جان کی قربانی 7" دوں گا اور بھٹو کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔اس پر اپیگینڈا کے صرف دو ایک ماہ کے بعد مسلم سر بر اہان مملکت کی لاہور میں کا نفرنس منعقد ہوئی۔جس میں احرار نے جماعت احمدیہ کے خلاف شر انگیز عربی اور اردو پمفلٹ شائع کئے اور پھر سعودی عرب نے رابطہ عالم اسلامی سے احمدیوں کے غیر مسلم ہونے کا فتویٰ لے کر تمام مسلمان ملکوں میں پھیلا دیا۔