مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 220 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 220

220 میری غذا بالکل کم ہو گئی تھی۔بھوک جاتی رہی تھی۔سولہ سترہ برس کی عمر میں نیند اچاٹ تھی اور اگر آتی تھی تو نہایت ہی وحشت انگیز خوابوں میں کٹتی تھی۔میں نے اس زمانے میں جو خواب دیکھے ، وہ میرے دماغی التہاب کا ٹھیک ٹھیک عکس تھے اور ذہن و خواب کے رشتے کو ٹھیک واضح کرتے ہیں۔میں نے لق و دق صحرا دیکھا جس میں نہ ایک درخت تھانہ کہیں سایہ اور نہ کوئی حد وانتہا۔اچانک ریگستان میں آندھی آئی اور میں اس میں چھپ گیا۔سمندر دیکھا۔میں ہاتھ پاؤں مار رہا تھا اور موجیں مجھے اچھال رہی ہیں۔سفر حجاز میں ایک شخص حاجی محمد ابراہیم بمبئی کے تاجر جہاز میں سوار تھے۔ان کو مرگی کا عارضہ تھا۔ایک دن ڈک میں کھڑے تھے۔اچانک چکر آیا اور سمندر میں گر گئے۔مرگی کی بیہوشی اور سمندر ! بڑی مصیبتوں سے انہیں نکالا گیا۔میں نے سمندر میں ان کا ڈوبنا، اچھلنا اور نزع و احتضار کی سی حالت کا چہرے پر طاری ہونا اچھی طرح دیکھا تھا۔کئی مرتبہ خواب میں دیکھا کہ ٹھیک اسی جہاز پر سوار ہوں۔مرگی کا دورہ ہوا اور سمندر میں گر گیا۔حاجی ابراہیم کو خلاصیوں نے جلد ہی نکال لیا تھا مگر مجھے کوئی نکالنے والا نہیں ہے اور میں محسوس کر رہا ہوں کہ تیزی کے ساتھ قہر سمندر میں گر رہا ہوں۔کیا سچ سچ میرے دماغ پر مرگی طاری تھی ؟ اور کیا حقیقتاً ایسا نہ تھا کہ سمندر کی موجوں میں، میں غرق ہو رہا تھا؟ اس کے بعد وہ زمانہ آتا ہے جب گویا ذ ہن اپنی حالت پر قانع ہو گیا ہے اور کاوش اور نامراد طلب و جستجو سے طبیعت تھک کر ایک ہو چکی ہے۔یہ میری زندگی کا سب زیادہ سے تاریک وقت تھا۔اس سے بھی بہر حال کاوش و جد و جہد تھی۔اقتناع نہ تھا، اس لئے نزع تھی۔موت طاری نہیں ہوئی تھی لیکن اب وہ طاری ہو گئی اور الحاد و انکار جو بسا اوقات سوفسطائیت کا بھی عنصر اپنے اندر رکھتا تھا۔ایک مصنوعی طبیعت بن کر تمام افکار و عقائد پر غالب آگیا۔8 ایک ایسے شخص کے لئے جو آل انڈیا نیشنل کانگرس کے سوشلسٹ بلاک سے وابستہ ہو چکا ہو، ترک اسلام کے بعد اپنی عقیدتوں کا رُخ بابیت و بہائیت کی طرف پھیر دینا ایک طبعی، منطقی اور فطری بات تھی کیونکہ بابیت و بہائیت پیغمبر اشتراکیت مزدک کی جانشین تھی اور اس کا اسلام اور دیگر