مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 208 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 208

208 کہ اگر وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے تو خانہ جنگی بھی طویل ہو جائے گی اور اس سے پیدا ہونے والی ابتری میں انہیں آزادی کا موقع مل جائے گا۔پھر وہ جس کے ساتھ مل گئے تاریخ کا فیصلہ اس کے پلڑے میں ہو گا۔انہیں اپنے ساتھ ملا کر قازان سے ترکستان تک ایک ایسی مضبوط حامی قوت مل سکتی تھی جس کے سہارے وہ ان علاقوں میں اپنے کو مستحکم کر سکتے تھے۔اس مقصد کے پیش نظر انہوں نے اپریل 1917ء کی ساتویں سوشل ڈیمو کریٹک کانگرس میں ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں قومیتوں کے حق خودارادیت بلکہ اپنی قسمت آپ منتخب کرنے اور روس سے الگ ہو جانے تک کا حق تسلیم کر لیا تھا۔تاہم اس وقت حالات اتنے پیچیدہ تھے اور افراتفری، ہنگاموں اور انتشار کا کچھ ایسا عالم تھا کہ یہ آواز اس میں ڈوب کر رہ گئی تھی اور صرف چند لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکی تھی۔اب پیٹروگراڈ پر بالشویکوں (کمیونسٹوں) نے قبضہ کیا تو اس قرار داد کو باضابطہ سرکاری اعلان کی صورت دے دی۔اعلان کے الفاظ بڑے دلکش تھے۔زار شاہی عہد میں مسلمانوں کے دین اور تہذیب و ثقافت اور ان کی مسجدوں کو جس طرح پامال کیا گیا تھا اس کی مذمت کی گئی تھی۔زاروں کو غاصب قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ آج سے ان کے دین و ایمان، انکی روایات، ان کے قومی و ثقافتی اداروں کی آزادی اور حرمت کا تحفظ کیا جائے گا۔وہ پوری آزادی سے اپنی قومی زندگی تعمیر کر سکیں گے۔انہیں یہ اختیار ہو گا کہ وہ چاہیں تو سوویٹ یونین کے اندر رہیں یا اس سے بالکل آزاد ہو کر اپنی ریاستیں قائم کر لیں۔اپنے اخلاص کا مظاہرہ کرنے اور حلقہ دام تزویر کرنے کے لئے اس اعلان کے کچھ روز بعد کمیونسٹوں نے حضرت عثمان کا نسخہ ، قرآن جو مبینہ طور پر پیٹروگراڈ نیشنل لائبریری میں محفوظ تھا مسلمانوں کو دے دیا۔اگلے مہینے قازان کا ایک تاریخی مینار بھی مسلمانوں کے حوالہ کر دیا۔اس اعلان اور اقدامات نے دہرا کام کیا۔ایک تو یہ کہ مسلمانوں کے اندر پہلے سے پھیلے ہوئے انتشار و افتراق میں اضافہ کر دیا۔اب تک مسلمان سیاسی اعتبار سے تین گروہوں میں منقسم تھے۔ایک گروہ روس کی وفاقی ریاست کے اندر داخلی یا علاقائی خود مختاری کا حامی تھا۔دوسر اوحدانیت پسند تھا اس کے خیال میں وفاقی ریاست مسلمانوں کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی راہ میں حائل ہو سکتی تھی۔ان دونوں گروہوں