مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 207
207 علماء کا جب یہ حال تھا تو عام مسلمان کفر والحاد کے اس سیلاب کے آگے کب تک ثابت قدم رہتے۔تھوڑی ہی مدت گزری تھی کہ انفرادی ارتداد نے اجتماعی ارتداد کی شکل اختیار کرلی۔سڈنی اور پیٹر ز ویب لکھتے ہیں: ” بہت سے علاقوں میں ملاؤں کی بڑی تعداد نے اپنے مقتدیوں سمیت اسلام ترک کر دیا اور سوویٹ یونین کی سرپرستی میں الحاد و بے دینی کی تبلیغ واشاعت شروع 2" کر دی۔“2 سوویٹ نظریاتی مجلہ ”سیاسی خود تعلیمی“ نے اکتوبر 1969ء کے شمارہ میں روسی ملاؤں کی اسلام فروشی کا منظر ان الفاظ میں پیش کیا۔زیادہ زور اسلام کے اخلاقی احکامات پر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ سوشلسٹ سوسائٹی میں انہی احکام پر عمل ہو رہا ہے۔۔۔۔کہا جا رہا ہے کہ آج محمد (صلی ) کے افکار وخیالات پر ہی عمل ہو رہا ہے۔انہوں نے ان افکار کا اعلان کیا اور کمیونسٹ اصولوں کو رواج دینے کی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔کیونکہ اس وقت نوعِ بشر تکنیکی طور پر اتنی ترقی یافتہ نہ تھی۔اب وہ وقت دور نہیں جب سوویٹ عوام وہ فصل کاٹیں گے جو محمد (صلی ال نے کاشت کی تھی۔ملا یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ جو شخص کمیونزم کی تکمیل کے مقدس فریضے میں شامل ہو کر رضائے الہی کو عملی جامہ پہنائے گا 3" وہ جنت میں جائے گا۔“3 جناب آباد شاہ پوری صاحب اپنی دوسری کتاب ترکستان میں مسلم مزاحمت “4 کے صفحہ 120 پر رقم طراز ہیں: کمیونسٹ فکری و ذہنی انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کے ماہر ہیں۔اس کے بغیر وہ کسی سوسائٹی پر کاری ضرب نہیں لگا سکتے۔جب بھی وہ کسی معاشرے اور ملک کو اپنے چنگل میں گرفتار کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں، سب سے پہلے اس میں ذہنی انتشار اور عملی افرا تفری پیدا کرتے ہیں۔یہاں انہیں مسلمانوں کی حد تک یہ زحمت بھی نہ اٹھانی پڑی۔انہوں نے انکے اندر قوتِ فیصلہ سے بہرہ مند ، بابصیرت اور متفق علیہ قیادت کے فقدان اور اس سے پیدا ہونے والے انتشار اور صفوں میں ابتری دونوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔وہ مسلمانوں کی قوت سے پوری طرح باخبر تھے اور جانتے تھے