مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 172
172 اٹھارھویں فصل احرار کا سوشلزم کے حق میں اور احمدیوں کے خلاف پراپیگنڈے کا آغاز بہر کیف احرار کے انقلابی رہنما سول نافرمانی میں اپنے سیاسی جوہر کا سکہ جمانے کے بعد مسلمانوں میں سوشلزم کے پراپیگنڈہ اور سوشلزم ہی کے حوالہ سے جماعت احمدیہ کی مخالفت کے لئے وقف ہو گئے اور اس بناء پر انہوں نے تحریک پاکستان کو ملیا میٹ کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگادی۔یہ کوئی خیالی یا قیاسی بات نہیں بلکہ ایک ایسی ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے جس کے لفظ لفظ پر مجلس احرار کا مستند لٹریچر شاہد ناطق ہے چنانچہ مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب بانی رکن مجلس احرار اسلام“ نے ” تاریخ احرار کے باب چہارم صفحہ 138 پر فتنہ قادیان کے عنوان سے لکھا۔” باب چهارم فتنہ قادیان لوگ بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ احرار کو کیا ہو گیا کہ مذہب کی دلدل میں پھنس گئے۔یہاں پھنس کر کون نکلا ہے جو یہ نکلیں گے ؟ مگر یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی جن کا دل غریبوں کی مصیبتوں سے خون کے آنسو روتا ہے۔وہ مذہب اسلام سے بھی بیزار ہیں اس لئے کہ اس کی ساری تاریخ شہنشاہیت اور جاگیر داری کی دردناک کہانی ہے۔کسی کو کیا پڑی کہ وہ شہنشاہیت کے خس و خاشاک کے ڈھیر کی چھان بین کر کے اسلام کی سوئی ڈھونڈے تا کہ انسانیت کی چاک دامانی کار فوکر سکے ؟ اس کے پاس کارل مار کس کے سائنٹیفک سوشلزم کا ہتھیار موجود ہے۔وہ اس کے ذریعے سے امرا اور سرمایہ دارں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔اسے اسلام کی اتنی لمبی تاریخ میں سے چند سال کے اوراق کو ڈھونڈ کر اپنی زندگی کے پروگرام بنانے کی فرصت کہاں ؟ سرمایہ داروں نے ان برسوں کی تاریخ کے واقعات کو سرمایہ داری کے رنگ میں رنگا۔اور مساوات انسانی کی تحریک جس کو اسلام کہتے ہیں ، مذہبی لحاظ سے عوام کی تاریخ نہ رہی اور نہ ہی اس میں کوئی انقلابی سپرٹ باقی رہی۔عامتہ المسلمین۔امیروں جاگیر داروں کے ہاتھ میں موم کی ناک بن کر رہ گئے۔ہندوستان میں اس وقت بھی سب سے زیادہ مفلوک الحال مگر حال مست ہیں۔انہیں اپنے حال کو بدلنے کا کوئی احساس نہیں۔یہ کیوں ہوا۔