مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 139 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 139

139 بات کی تو تحت الثریٰ میں اُس کو جگہ ملنا مشکل۔غرضیکہ ایک گڑ بڑ ہے اور یہ طریقہ کار جو موجود ہے۔یہ تو سر اسر اسلام اور شریعت سب کے خلاف ہے۔اس کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا تعلق؟ مثلا کانگریس کی شرکت جو خاص مذہبی یا سیاسی ہندؤں کی تحریک ہے، جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو تباہ برباد کرنا ہے اور مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دینا اُس کا ایک خاص فرض منصبی ہے۔یہ سب بالشویک خیالات کے لوگ ہیں۔بالشویک نے جیسا کچھ اسلام اور مسلمانوں کو تباہ برباد کیا، مدارس دینیہ و مساجد کو خراب کیا، وہ ساری دنیا کو معلوم ہے۔تو حضرت یہ سوراج سوراج ہانکتے پھرتے ہیں، اگر خدانخواستہ اس میں کامیابی بھی ہو گئی تو ہندوستان ایک خونی مرکز بن جائے گا۔“1 گاندھی کی اندھی عقیدت کے نتائج 66 جناب ابو الکلام آزاد کی گاندھی سے اندھی عقیدت انتہا تک پہنچ چکی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اپنے مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد (مسجد ناخدا) کلکتہ کے افتتاح کے لئے مسلم دنیا کی کسی شخصیت کے بجائے اُن کی نظر انتخاب اپنے محبوب آقا اور پیرومر شد گاندھی جی پر پڑی اور انہوں نے اُن کی درخواست پر 13 دسمبر 1920ء کو اس کا اپنے دست مبارک“ سے افتتاح فرمایا۔اس مدرسہ کے نگران وہ خود تھے اور انہوں نے عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی کو اس کا مہتمم اور مجلس احرار کے ”شیخ الاسلام حسین احمد دیوبندی کو صدر مدرس مقرر کیا۔یہ مدرسہ گاندھی کے فدائی اور شیدائی علماء پیدا کرنے کی گویا فیکٹری تھی۔چنانچہ انہوں نے 7 مارچ 1921ء سے قبل ملیح آبادی صاحب کو حکم دیا کہ :- ”اگر مولوی منیر الزمان کے یہاں چرنے عمدہ ہیں تو آج ہی پانچ چرنے وہاں سے منگوا لئے جائیں۔قیمت ان کو دے دی جائیگی۔یا یوں کہے کہ جس قدر اُن کے پاس ہو خلافت کمیٹی خریدے اور کمیٹی سے حسب ضرورت مدرسے کے لئے لے لئے جائیں۔فضل دین سے کہہ دیجئے، امتحان کی مدت بڑھائی جاسکتی ہے۔مجھے کوئی عذر لکھتے ہیں: نہیں۔“ ” مکاتیب آزاد “ کے مرتب جناب ابو سلمان شاہجہانپوری یہ خط درج کرنے سے پہلے یہ نوٹ