مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 138
138 معلوم ہوا کہ یہ طریق مقبول اور پسندیدہ نہیں اور اسی سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ غیر مقبول میں خیر اور برکت کہاں۔بے برکتی بھی مشاہد ہے اور بے برکتی کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اُس شخص کی تعلیمات اور تجویزات ہیں جو توحید اور رسالت کا منکر ، اسلام اور مسلمانوں کا دشمن، رئیس المشرکین والکافرین۔یہ سب اُسکا سبق پڑھایا ہوا ہے۔تحریک خلافت کے زمانہ میں ہجرت کا رزلیوشن (Resolution) پاس کرنا، اسی پر مسلمان لبیک کہہ کر کھڑے ہو گئے۔ہزاروں مسلمانوں کو بے خانماں کرا دیا۔اس کا جو مسلمانوں کی ذات پر اثر ہوا اور ناقابل برداشت نقصان پہنچا وہ سب کو معلوم۔پھر ملازمتیں ترک کرنے کی تعلیم دی گئی۔جن کی متیں ماری گئیں تھیں وہ چھوڑ بیٹھے۔مسلمانوں نے تو چھوڑیں اور ہندوؤں نے ان کی جگہوں کو پُر کیا۔بہت سے تو اب تک جو تیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔بعض کے خطوط آتے ہیں۔لکھتے ہیں کہ اُس وقت یہ حماقت ہو گئی تھی۔اب تک بے روزگاری سے سخت پریشانی ہے۔یہ سب بے اصول کاموں کے انجام۔اگر کوئی اصول ہوتا یا کوئی مرکز ہوتا تو ان لوگوں کو کیوں پریشانی ہوتی اور کیوں بد دل ہوتے۔غرضیکہ قدم قدم پر ناکامی اور ذلت گلو گیر ہو رہی ہے مگر پھر بھی آنکھیں نہیں کھلتیں۔جو سو جھتی ہے نئی سو جھتی ہے۔یہ سب مشرک کی تعلیم پر عمل کرنے کے ثمرات ہیں۔اگر مسلمان تنہا اصول کے ماتحت حدود شرعیہ کا تحفظ کرتے ہوئے اور کسی کو اپنا بڑا بنا کر کام کریں، اپنی مالی اور جانی قوت کو ایک مرکز پر جمع کر لیں پھر کسی کو بھی اختلافات نہ ہو گا۔مسلمانوں کے جو مقاصد شرعیہ یا اپنی بہبودی دنیا و دین کے لئے مطالبات ہیں، مجھ کو اُن سے اختلاف نہیں اور نہ کوئی مسلمان اختلاف کر سکتا ہے۔وہ سب ہی کو مطلوب ہیں۔مجھ کو جو اختلاف ہے وہ طریق کار سے ہے۔حدود شرعیہ کا قطعا تحفظ نہیں۔سردار اور امیر کوئی نہیں۔اختلاف اور خلاف کی یہ حالت ہے کہ پارٹی بندیاں ہو رہی ہیں کہ علماء ایک طرف کو چلے جارہے ہیں۔لیڈر ایک طرف چلے جارہے ہیں۔عوام کی یہ حالت ہے کہ جس نے مرضی کے موافق فتویٰ دیدیا یا کوئی عالم یا لیڈر ان کی ساتھ ہو لیا اس میں سب کمالات ہیں۔اُسکو عرش پر پہنچا دیں گے۔اگر کسی نے مرضی کے خلاف کوئی