مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 1 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 1

1 مقدمه پر اسرار پر دوں میں پوشیدہ اصل تاریخ جدید تحقیقات و اکتشافات کا خلاصہ ) احراری مطالبه اقلیت (اکتوبر 1934ء تا ستمبر 1974ء) کے عالمی پس منظر کی تفصیل اس باب کے آئندہ صفحات میں بیان ہو گی۔یہاں صرف جدید تحقیقات و اکتشافات کے حوالہ سے اس کا خلاصہ دیا جانا مقصود ہے۔قدیم تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم پر یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا سیاسی اور اقتصادی و اخلاقی زوال انیسویں صدی کے آغاز ہی میں انتہا تک پہنچ چکا تھا۔اور ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ ابو نصر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (ولادت 1775ء۔وفات 7 نومبر 1862ء) محض ایسٹ انڈیا کمپنی کے وظیفہ خوار تھے جن کی سب سطوت وشوکت صرف دتی کے لال قلعہ تک محدود ہو کے رہ گئی تھی اور ملک کی پوری معیشت پر عملاً ہندو اکثریت اور ہند وراجے قابض ہو چکے تھے اور اگر ہم اس دور کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو یہ انکشاف ہو گا کہ 1857ء کاغد رجو بظاہر ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف تھا، در پردہ ہندوراج کے قیام کی منظم سازش تھی جس کی تشکیل بانی سوشلزم کارل مارکس (1818ء- 1883ء) کی رہین منت تھی جو اُن دنوں لندن میں مقیم تھا اور امریکی پریس میں آرٹیکل لکھ کر غدر سے قبل کئی سال سے ہندوؤں کو مسلمانوں اور انگریزوں کے خلاف مشتعل کر رہا تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریزوں کے خلاف مسلح بغاوت پر اکساتا چلا آرہا تھا۔سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ المسلمین نے مسلمانان ہند کے تحفظ کیلئے برطانوی افواج کو رستہ دیا اور رام راج کی ہند و بغاوت ناکام ہو گئی۔ایسٹ انڈیا کمپنی بر طرف کر دی گئی اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1858ء کے مطابق