مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 72
72 اتفاق رائے رکھتے تھے۔سوا اس کے کہ اس تمام تقسیم جدید نے انسانوں کے دل و دماغ پر یہ غلط عقیدہ مسلط کر دیا ہے کہ تمام زندگی مادی اسباب کی عادلانہ یا مساوی تقسیم سے فروغ اور ترقی حاصل کر سکتی ہے۔۔۔۔۔" اقبال کو کمیونسٹ تو یقیناً نہیں کہا جا سکتا لیکن ان کے سوشلسٹ ہونے سے انکار بھی ممکن نہیں ہے۔اقبال کا سوشلزم کا تصور اسی قسم کا تھا جو آج ہمارا ہے۔جس میں پبلک سکٹر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکٹر کا وجود بھی گوارا کیا جاتا ہے۔ان کا عقیدہ تھا کہ :- اسلام سرمایہ کی قوت کو معاشی نظام سے خارج نہیں کرتا۔۔۔۔بلکہ اسے قائم رکھتا ہے اور ہمارے لیے ایک نظام تجویز کرتا ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے یہ قوت کبھی بھی اپنے مناسب حدود سے تجاوز نہیں کر سکتی۔“ اقبال نے اس عقیدے کا اظہار اُس مضمون کے جواب میں کیا تھا جس میں اُن پر بالشوک یا کمیونسٹ ہونے کی تہمت رکھی گئی تھی، اس کے دس سال بعد اُنھوں نے اپنے اسی عقیدے کا اعادہ ایک نجی خط میں بھی کیا جو 9 مئی 1932ء کو لکھا گیا تھا۔”اسلامی معاشیات کی روح یہ ہے کہ بڑی مقدار میں سرمایہ میں اضافے کو نا ممکن بنا دیا جائے۔۔۔۔بالشوزم نے سرمایہ داری کا کلیتاً خاتمہ کر کے انتہائی اقدام کیا ہے۔اسلام زندگی کے تمام پہلوؤں میں اعتدال کی راہ اختیار کرتا ہے۔“ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، اقبال کے ذہن نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا کہ اس ملک کی بیشتر آبادی جو مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل ہے اس کے مسائل کی نوعیت وہی ہے جو انقلاب سے پہلے روس کی تھی۔اسی احساس کے پیش نظر انھوں نے سوویٹ روس کے معاشی تجربے کا دلچسپی سے مطالعہ کیا تھا اور اس سے وہ متاثر بھی ہوئے تھے۔محمد دین تاثیر کے بیان کے مطابق اقبال نے یہ بات متعد دبار واضح الفاظ میں کہی تھی کہ اگر مجھے کسی مسلم ملک کا سربراہ بنا دیا جائے تو وہ سب سے پہلے اسے سوشلسٹ ریاست بنائیں گے۔اقبال کی وفات سے دوڈھائی مہینے پہلے جو اہر لال نہروان سے ملے۔ان کا بیان ہے کہ اقبال: زندگی کے آخری برسوں میں سوشلزم سے بہت قریب آگئے تھے۔سوویٹ یونین نے جو عظیم ترقی کی تھی، اس نے انھیں گرویدہ بنالیا تھا۔“