مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 68
68 بالشوزم میں خدا کا تصور اگر داخل کر دیا جائے تو وہ بڑی حد تک اسلام کے مماثل ہو جائے گا۔مجھے حیرت نہ ہو گی اگر آگے چل کر اسلام روس پر یاروس اسلام پر چھا جائے۔“ لاہور کے انگریزی اخبار روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کی 30 جولائی 1931ء کی اشاعت میں یہ خط شائع ہو گیا تھا۔اس کے چھ مہینے بعد ایک اخبار نویس نے اقبال سے ان کے اس خیال کی وضاحت چاہی تو انہوں نے کہا : ” اسلام سوشلسٹ طرز کا مذہب ہے۔مطلق سوشلزم اور نجی ملکیت کے باب میں قرآن نے درمیانی راہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔۔۔۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ آپ جسے بالشوزم اور سامراج کہتے ہیں، عصر حاضر ان دونوں میں بنیادی تبدیلیاں لائے گا۔علاقائی سلطنتوں کے دن لد چکے ہیں۔بالشوزم میں بھی مطلق سوشلزم کے معنوں میں ترمیمیں کی جانے لگی ہیں۔ممکن ہے کہ معاشی نقطہ نگاہ کے اختلاف کی بنا پر روس اور برطانیہ بر سر پیکار ہو جائیں۔اس حالت میں صحیح فکر رکھنے والوں کی ہمدردیاں حق و صداقت کے ساتھ ہوں گی۔“ 1929ء میں اقبال نے روزنامہ زمیندار میں شائع ہونے والے تردیدی مراسلے میں بالشوک خیالات رکھنے والوں کو قطعیت کے ساتھ خارج از اسلام قرار دیا تھا۔لیکن مندرجہ بالا بیان میں اُنہوں نے اسلام کو سوشلسٹ طرز کا مذہب کہا۔بلکہ ایک قدم آگے بڑھا کر انہوں نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ معاشی نقطہ نگاہ کے اختلاف کی بناء پر روس اور برطانیہ بر سر پیکار ہوئے تو ان کی ہمدردی روس کے ساتھ ہو گی۔یہ دو ٹوک بیان دینے کی ہمت اقبال کو اس وجہ سے ہوئی تھی کہ اس وقت برطانوی سامراج کی گرفت ہندوستان پر ڈھیلی پڑ چکی تھی اور روز بروز کمزور تر ہوتی جارہی تھی۔یہ اسی صورت حال کا کرشمہ تھا کہ 1934ء میں اقبال کی یہ علانیہ خواہش تھی کہ ملک میں سوشلسٹ پارٹی کا قیام عمل میں آئے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہندوستان میں پہلی سوشلسٹ کا نفرنس 17 مئی 1934ء کو اچاریہ نرندردیو کی صدارت میں پٹنہ میں منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ پارٹی کی ہیئت کا تھا۔یعنی اس کی شکل باضابطہ جداگانہ پارٹی کی ہو کا نگریس کے اندر یا اس کے بازو کی طرح کام کرے۔کانفرنس میں اس سوال پر ووٹ لیے گئے تو جدا گانہ پارٹی کے قیام کے حق میں 22