مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 67
67 یہ بھی قابل ذکر ہے کہ کارل مارکس کی مذہب دشمنی کے باوجود اقبال نے کارل مارکس اور اس کی تصنیف، سرمایہ (Capital) کا ہر جگہ محبت و عقیدت سے نام لیا ہے۔ان کے نزدیک مار کس پیغمبر نہ ہونے کے باوجو د صاحب کتاب تھا: " نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب“ یہی بات اقبال نے جاوید نامہ میں واضح تر الفاظ میں کہی تھی اور سرمایہ کے مصنف ہر بے جبرئیل کارشتہ ابراہیم خلیل اللہ سے جوڑا تھا۔ان کے نزدیک کارل مارکس کا اند از فکر تو کافرانہ تھا لیکن اس کا قلب مومن تھا۔اس کے باطل خیالات بھی حق پر مبنی ہیں۔اس میں خرابی بس یہ ہے کہ اس کا فلسفہ زندگی روحانیت سے تہی ہے اور اس کا سارازور اس پر ہے کہ روٹی سب کو برابر ملے : صاحب سرمایه، از نسل خلیل یعنی آں پیغمبر بے جبرئیل زانکہ حق در باطل او مضمر است قلب اومومن دماغش کافراست رنگ و بوازتن نگیر د جانِ پاک جز به تن کارے ندارد اشتراک دین آں پیغمبر حق ناشناس بر مساوات دار داساس اس بر صغیر ہند میں سوشلزم کی ترویج واشاعت سے متعلق جو تاریخیں اب تک لکھی گئی ہیں، وہ اگر چہ اقبال کے ذکر سے خالی ہیں، تاہم یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ سوشلزم کے تصور کے پر چار کی خدمت اقبال نے بالواسطہ اور براہ راست بھی اس وقت انجام دی تھی جب نہ تو ہمارے ملک کے رہنماؤں میں سے کسی کو باستشنائے حسرت موہانی، اپنے کو کمیونسٹ یا سوشلسٹ کہنے کی ہمت ہوئی تھی اور نہ کسی پارٹی کے نصب العین میں سوشلزم کو جگہ ملی تھی۔کمیونسٹ پارٹی کا قیام عمل میں آچکا تھا لیکن وہ غیر قانونی تھی اور اس کے بیشتر کار کر تا قید و بند کی زندگی گزار رہے تھے۔اقبال نے 1931ء میں اسلام اور بالشوزم کے باہمی ربط سے متعلق ایک خط میں دوٹوک انداز میں لکھا تھا کہ :