مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 51
51 چوتھی فصل اقبال مارکسزم کے علمبر دار کی حیثیت سے سر اقبال نے کارل مارکس کی کتاب کو اسلام کی عملی تشریح سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا۔نکته شرع میں این است و بس کس نه باشد در جہاں محتاج کس یہی نہیں انہوں نے کارل مارکس کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ خ قلب اومومن، دماغش کافر است1 سر اقبال نے کارل مارکس کی شان میں قصیدہ خوانی کرتے ہوئے پہلے تو یہ کہا۔وہ کلیم بے تجلی! وہ مسیح بے صلیب نیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتاب 2 پھر ظلم و ستم کی حد یہ ہے کہ چند صفحے بعد انہوں نے اس کے فلسفہ کو ہی اسلام سے موسوم کیا ہے۔کہتے ہیں :- جانتا ہے جس پہ روشن باطن ایام ہے مزدکیت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے 3 سر اقبال کی اصطلاح کے مطابق عہد حاضر کے بانی اسلام کا نام کارل مارکس ہے جس کا وجو د مشرق و مغرب کی قوموں کے لئے چیلنج ہے اور ان کے اس مصرع کا مصداق ہے ؟ توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب ارمغان حجاز 218-219) یہی وہ اقبال کا مرد حق ہے جس کا ذکر انہوں نے بابی فرقہ کی شاعرہ قرۃ العین طاہرہ کے تذکرہ کے بعد ”جاوید نامہ“ کے صفحہ 244 پر بایں الفاظ کیا ہے۔مرد حق از آسمان افتد چوبرق هیزم اوشهر ودشت غرب وشرق ما هنوز اندر ظلام کائنات او شریک اہتمام کائنات