مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 46
46 نہیں رنگے۔یہ ہیں ملکیت ، قاعدہ، قانون، خاندان اور ”مذہب“ کے نام لیوالوگ۔انگریزی صنعت کے تباہ کن اثرات کا مطالعہ اگر ہندوستان کے سلسلے میں کیا جائے جس کی وسعت پورے یورپ کے برابر ہے اور جس میں 15 کروڑ ایکڑ زمین موجود ہے تو وہ صریحا مگر حیران کن معلوم ہوں گے۔لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اس پورے نظام پیداوار کا فطری نتیجہ ہیں جو اس وقت موجود ہے۔اس پیداوار کی بنیاد سرمائے کی حکومت عالیہ پر ہے۔سرمائے کی مرکزیت اس کے ایک خود مختار قوت کی حیثیت سے قائم رہنے کے لئے ناگزیر ہے۔سرمائے کی اس مرکزیت کا دنیا کی منڈیوں پر تخریبی اثر نہایت بڑے پیمانے پر سیاسی معاشیات کے فطری قوانین کو بے حجاب کرتا ہے جو اس وقت دنیا کے ہر مہذب شہر میں مصروف عمل ہیں۔تاریخ کے بورژوا دور کو نئی دنیا کے لئے بنیاد کی تخلیق کرنی ہے۔۔۔۔جب ایک عظیم سماجی انقلاب بورژوا عہد کے سارے ثمروں پر دنیا کی منڈی پر اور جدید پید اوری قوتوں پر قابض ہو جائے گا اور انہیں سب سے زیادہ ترقی یافتہ لوگوں کی مشتر کہ نگرانی اور تسلط میں لے آئے گا، صرف اسی وقت بت پرستوں کے اس کر یہہ المنظر دیوتا سے انسانی ترقی کی مشابہت ختم ہو گی جو مقتولوں کی کھوپڑیوں کے علاوہ اور کسی چیز میں آسمانی شراب 5" نہیں پیتا تھا۔“5 تحریک بر بادی 1857 اور جہادی ملا کا رُخ کردار رام راج کے علمبر داروں کی یہ تحریک جو کارل مارکس کے پراپیگینڈے کے مطابق اس کے خطوط پر چلائی گئی۔بیک وقت ایسٹ انڈیا کمپنی اور بہادر شاہ ظفر اور مسلمانوں کے خلاف تھی جس میں جہادی ملاؤں کا کردار نہایت گھناؤنا اور شرمناک تھا۔اس حقیقت کا اندازہ صرف الہ آباد میں بغاوت کے حالات سے بخوبی لگ سکتا ہے۔ایک غیر جانب دار و قائع نگار اور تاریخ نویس پنڈت کنہیالال کا بیان ہے۔وو مفسدین نے خوب شور مچایا، رام چندر کی جے کے نعرے لگائے اور چند ایک نے جیل خانے کی طرف جا کر وہاں سے اڑھائی ہزار قیدیوں کو رہائی دلوائی۔ان کی رہائی نے الہ آباد کے تمام ساکنین کو پریشان کیا۔قیدیوں کی زنجیروں کی صدا کئی گھنٹے