مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 44
44 ایسا ملک تھا جو نہ صرف ہندوؤں اور مسلمانوں میں بلکہ مختلف قبیلوں اور مختلف ذاتوں میں بھی تقسیم تھا۔۔۔۔ایسے ملک اور ایسے سماج کے مقدر میں بھلا مفتوح اور مسخر ہونا نہیں تو اور کیا لکھا تھا۔“ ”ہندوستان کا سیاسی اتحاد جو آج عظیم مغلوں کے زمانے سے کہیں زیادہ استوار اور وسیع ہے ہندوستان کے حیات نو پانے کی اولین شرط تھا۔یہ اتحاد جسے برطانوی تلوار نے ہندوستان پر عائد کیا تھا، اب تار برقی کے ذریعہ اور زیادہ مستحکم اور پائیدار بنے گا“ ” وہ سب کچھ جو انگریز بورژوا طبقہ کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے جنتا کی سماجی حالت میں نہ تو کوئی قابل ذکر بہتری پیدا کرے گا اور نہ جنتا کو آزاد کرے گا۔۔۔۔۔لیکن انگریز بورژوا طبقہ ان دونوں مقاصد کو پورے کرنے کے لئے بنیاد ضرور رکھ دے گا۔اور بورژوا طبقے نے کبھی اس سے زیادہ بھی کچھ کیا ہے ؟ کیا وہ کبھی افراد اور قوموں کو خون اور غلاظت، مصیبتوں اور ذلتوں میں جھونکے بغیر کسی قسم کی ترقی کو بروئے کار لایا ہے ؟ ہندوستانی اس وقت تک نئے سماج کے ان عناصر کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے جو برطانوی بورژوا طبقے نے ان کے درمیان بکھیر رکھے ہیں جب تک کہ خود بر طانیہ عظمیٰ میں صنعتی پرولتاریہ حکمران طبقوں کی جگہ نہ لے لے۔یا پھر جب تک خود ہندوستانی اتنے طاقتور نہ ہو جائیں کہ وہ انگریزی حکومت کے جوئے کو مکمل طور پر اپنی گردنوں سے نکال کر پھینک سکیں۔“ کارل مارکس نے اپنے مضمون کے آخر میں ملک کی اکثریتی آبادی رکھنے والے ہندوؤں کی مظلومیت کی زبر دست وکالت کرتے ہوئے ایسٹ انڈیا کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔”موسیٰ سے مار کس “ تک کے کمیونسٹ مورخ جناب سبط حسن نے اپنی کتاب کا بیسواں باب مار کس اینجلز اور ہندوستان کے موضوع کے لئے وقف کیا ہے۔موصوف نے کارل مارکس اور اینجلز کے متعلق تفصیل سے بتایا ہے کہ غدر 1857ء میں ان کی تمام ہمدردیاں باغی ہندوستانیوں کے ساتھ تھیں۔نیز لکھا ہے:- "مارکس ایک خبر نامے میں برطانوی پارلیمنٹ کے حزب اختلاف کے لیڈر بنجامن ڈز ریلی کی تقریر کے اقتباسات دیتا ہے اور اس کی رائے سے اتفاق کرتا ہے کہ