مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 43
43 مارکس کے برسلز میں قیام کے باعث کمیونسٹ لیگ کا صدر دفتر لنڈن سے برسلز منتقل کر دیا گیا۔مگر انقلاب فرانس کے بعد اس کا صدر دفتر دوبارہ لنڈن میں قائم کر دیا گیا اور بالآخر 23 اگست 1849ء کو مار کس بھی لندن آگیا اور زندگی کے آخری سانس تک یہیں رہا۔کارل مارکس کی ایسٹ انڈیا کمپنی پر تنقید کارل مارکس نے قیام لندن کے دوران یورپ اور تیسری دنیا خصوصاً ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف زبردست تنقیدی مضامین لکھے جن کو امریکی پریس نے شائع کیا۔چنانچہ 10 جون 1853ء کو اس نے انگریزی میں ایک مضمون لکھا جو نیو یارک ڈیلی ٹریبیون (25 جون 1853ء) کو شائع ہوا۔جس میں ہندوستان میں مغلوں اور انگریزوں کے اقتدار کو نفس پرستی اور رنگ رلیوں کا مذہب قرار دیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا:۔”ہند وستان میں سماجی انقلاب لانے کے سلسلے میں انگلستان کے محرکات ذلیل ترین تھے اور اس کا اپنے ذلیل مفاد کو ہندوستان پر ٹھونسنے کا طریقہ بھی بہت احمقانہ تھا۔“ پھر بتایا :- قدیم دنیا کی تباہی کا نظارہ کتنا ہی تلخ اور ناگوار کیوں نہ ہو لیکن ہمیں تاریخی نقطہ نظر سے گئیے کی ہم نوائی میں یہ کہنے کا حق ہے۔یہ تعذیب جو ہمارے واسطے زیادہ مسرت لے کر آئی ہے کیا اسی لئے تکلیف دہ ہونی چاہیے۔تیمور کے عہد حکومت میں کیا روحوں کی بیحد و حساب تباہی نہیں ہوئی۔2 ہندوستان میں برطانوی اقتدار کی مذمت اس کے بعد مارکس کا ایک اور مضمون نیویارک ڈیلی ٹریبیون (18 اگست 1853ء) میں بھی چھپا جس کے بعض اقتباس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔”ہندوستان میں برطانوی اقتدار آخر کیسے قائم ہو گیا۔مغل اعظم کے اقتدار اعلیٰ کو مغل صوبے داروں نے پاش پاش کیا۔صوبے داروں کی قوت کو مرہٹوں نے توڑا۔مرہٹوں کی قوت کو افغانیوں نے ختم کیا اور اس وقت جبکہ سب ایک دوسرے کے خلاف جنگ آزما تھے۔برطانوی جھپٹ کر پہنچ گیا اور وہ ان سب کو زیر کر سکا۔یہ ایک