مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 36
36 کے بچوں نے حضرت عبد البہاء کی ایک لوح توحید انگریزی میں پڑھ کر سنائی تو مولانا ظفر علی خاں نے بڑی مسرت سے فرمایا کہ جن بچوں کو توحید الہی کی ایسی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے ، اُن کا مستقبل بہت شاندار ہے۔33 اشتراکی حکومت کی جد وجہد میں بابیت کی جارحانہ پالیسی کارل مارکس نے اشتراکیت پھیلانے کے لئے بورژوا طبقہ کو تہس نہس کرنے کی جو جارحانہ پالیسی پیش کی اس کی ترویج کی خاطر بابی لیڈروں نے اول قدم پر ہی عملی اقدامات شروع کروائے تھے۔فرق صرف یہ تھا کہ کارل مارکس نے اپنا انقلابی پروگرام معاشیات کے حوالہ سے مرتب کیا تھا کیونکہ یورپ مذہبی اقدار سے آزاد ہو چکا تھا اور اسے مذہب کے بارہ میں نہ صرف کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ شدید نفرت پیدا ہو چکی تھی۔اس کے مقابل ایران غالی شیعوں کا گہوارہ اور مرکز تھا۔وہ معاشیات کی بجائے مذہب کے فریفتہ اور والا وشید اتھے اس لئے بابی پارٹی نے اشتراکیت کی راہ ہموار کرنے اور مخالفین اشتراکیت کو ”مذہب "34 کی طاقت سے کچل دینے کا فیصلہ کیا۔بایں ہمہ کارل مارکس کے انقلابی پروگرام پر بھی آنچ نہیں آنے دی۔اس ضمن میں بابیت کے بعض پر تشد دوحشیانہ اور امن شکن احکام ملاحظہ ہوں۔1۔کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ باب کی کتاب البیان کے سوا کوئی دوسری کتاب پڑھے یا پڑھائے۔35 2۔دنیا میں جس قدر کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، سب کو نیست و نابود کر دیا جائے۔36 3۔جو لوگ بابی تحریک پر ایمان نہیں لاتے ، وہ پلید اور واجب القتل ہیں۔37 4۔ہر وہ چیز جو غیر بابی کے قبضہ میں ہے ، پلید ہے مگر جو نہی وہ بابی کے قبضہ میں آجاتی ہے ، پاک ہو جاتی ہے۔38 5۔ہر غیر بابی کی جائید ادلوٹ لینی چاہیے کیونکہ اس کا قبضہ ناجائز ہے۔39 6۔بابی مملکت میں کسی غیر بابی کو آنے جانے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔40 اگر چه با بیت ایران میں کوئی اشتراکی حکومت نہیں بنا سکی مگر تاریخ گواہ ہے کہ اُس نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے قتل وغارت سے قطعاً کوئی دریغ نہیں کیا۔اور 1917ء میں جو اشتراکی انقلاب برپا ہوا، وہ وسیع پیمانہ پر خونریزی، غنڈہ گردی اور لوٹ مار ہی کا رہین منت تھا۔جس کے قیام سے بابی