مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 35 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 35

35 نہ ہو تا کہ ایک ایسا فلاسفر اور شاعر جو اوائل عمر سے زندگی کے آخری لمحات تک مزدک کو پیغمبر اشتراکیت اور سوشلزم کو عین اسلام یقین کرتا ہے۔عرب کی بجائے خراسان اور عراق کا والا و شیدا ہے اور ان کی خاک سے اٹھنے والی دہشت گرد تحریک اور اس کی ہیر وقرۃ العین طاہرہ پر فریفتہ اور اس کا شمار عرش کی پاکباز روحوں میں ہونے کا معتقد ہو۔اور اس کے باوجود وہ مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز بننے اور اپنی موت کے بعد اپنی پرستش کا خواب دیکھ رہا ہو۔اس کے لئے نظریاتی تضادات کا مرقع بننا لازم اور ناگزیر ہے۔خصوصاً اس لئے کہ پیغمبر اشتراکیت کی جانشین تحریک کا مقدس اصول اور ہدایت ہے۔”استر ذھبک و ذهابک و مذهبک“ کہ اپنی دولت، اپنا سفر اور اپنا مذ ہب چھپائے رکھنا۔(سجنه الصدور صفحہ 83 مطبوعہ بمبئی مارچ 1914ء تالیف میرزا حیدر علی اصفہانی) ابو الکلام آزاد۔ظفر علی خاں اور بابیت مولوی سید محفوظ الحق علمی (1895ء۔8 فروری 1978ء) بہائیت کے پر جوش مبلغ تھے۔اُن کے سوانح نگار محمد یوسف بجنوری کے بیان کے مطابق نہ صرف ڈاکٹر سر اقبال اور ابوالکلام آزاد بلکہ مولوی ظفر علی خاں کو ”امر بہائی“ سے محبت تھی اور اسی لئے علمی صاحب کے ساتھ ان کے گہرے روابط و مراسم تھے۔چنانچہ بجنوری صاحب رقمطراز ہیں۔مولانا ابوالکلام آزاد دہلی میں علمی صاحب سے بہت سی بہائی کتابیں لے گئے۔امر بہائی سے محبت کرتے تھے۔ایک مرتبہ سفیر ایران نے بہائیوں کے متعلق گمراہ کہا۔مولانا نے انہیں فور آٹو کا اور کہا جناب سفیر کو مفتی کس نے بنایا ہے۔آپ اپنی سفارت کے فرائض انجام دیجئے۔ڈاکٹر اقبال، مولانا ظفر علی خاں لاہور میں ڈاکٹر صاحب کے دولت کدے پر بہت بار ملاقاتیں ہوئیں اور امر اللہ کے متعلق باتیں ہوئیں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ میں پورا پورا ہفتہ مرزا محمود زرقانی (مبلغ) سے ملاقات اور بہائی مذاکرات کرتارہاہوں اور ایک بار فرمایا کہ میں سید باب کو شارع اعظم سمجھتا ہوں اور ایک دفعہ مولانا ظفر علی خاں نے سید علمی کی ختم نبوت پر تقریر سن کر کہا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب! بہائیت تو بڑا علمی سلسلہ ہے۔تو ڈاکٹر اقبال صاحب نے فرمایا۔میں تو آپ سے پہلے ہی کہتا تھا بہائیت تو ایک مستقل امر ہے۔مولانا ظفر علی خاں ایک مرتبہ بمبئی تشریف لے گئے تو بہائی ہال میں سید علمی نے اُن کو دعوت دی اور محترمہ شیریں فوجدار اور محترمہ شیریں بہن سے بھی امری بات چیت ہوئی جن