مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 34 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 34

34 ره عراق و خراساں زن اے مقام شناس دلم گرفته از آهنگ بربط عربی است 29 اے مقام کو پہنچاننے والے عراق و خراسان کی رہ پر چل۔میرا دل بربط عربی کے آہنگ سے آزردہ ہوچکا ہے۔یہ سب نثری اور شعری کلام ”شاعر مشرق“ کے اصل اور باطنی عقیدہ کا آئینہ دار اور عکاس ہے۔اس بنیادی نقطہ سے آگاہی کے بعد یہ معمہ پوری طرح حل ہو جاتا ہے کہ تمام ماہرین اقبالیات خصوصاً در گاہ اقبال“ کے غلام جناب غلام احمد پرویز جیسے مبصر اپنے مقتدا اور پیشوا کے نظریات میں بے شمار تضادات و اختلاف دیکھ کر کیوں محو حیرت رہ گئے ہیں ؟ جیسا کہ ان کی ضخیم کتاب تصوف کی حقیقت“ کے ہر صفحہ سے عیاں ہے۔وہ ساری عمر اقبالیات کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد بالآخر اس نتیجہ پر پہنچے کہ "جس۔۔۔۔کو وہ اس سے پہلے یکسر اسلام کے خلاف قرار دیتے تھے ، اس کے بعد وہ ان کے کس قدر مبلغ بن گئے۔اگر وہ خود ( اپنے دعویٰ کے مطابق) ہر عقیدہ اور مسلک کو قرآن مجید کی کسوٹی پر پرکھتے تو ان کے خیالات اور عقائد میں اس قدر تضاد نہ ہوتا۔30" ” جب وہ۔۔۔۔پیچھے چلتے ہیں تو پھر پوری کی پوری عقل کو اٹھا کر جہنم رسید کر دیتے ہیں ”زیر کی از ابلیس“ خالص تصوف ہے اور قرآن کے خلاف اعلان جنگ۔“31 پھر لکھا۔” اس تنقید سے میرا مقصد علامہ اقبال یا کسی اور شخصیت کی تنقیص یا توہین نہیں۔میں تو کسی عام انسان کی توہین کو بھی بارگاہ خداوندی میں جرم عظیم سمجھتا ہوں چہ جائیکہ ایسی شخصیتوں کی توہین یا تنکیر جو کسی حلقہ میں بھی واجب الاحترام سمجھی جاتی ہوں۔لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کسی شخص کی عقیدت یا احترام اظہار حق کے راستے میں رکاوٹ بن جائے تو یہ بھی عدالت خداوندی میں کچھ کم سنگین جرم نہیں۔میں اس جرم کے ارتکاب سے خدا کی پناہ طلب کرتا ہوں۔“32 اگر جناب پرویز خالی الذہن ہو کر مزید تحقیق و تشخص فرماتے تو انہیں یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ