مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 319
319 جا کر انتخابی مہم چلاتے۔امید وار کھڑے کرتے تو صورت حال ہی کچھ ایسی ہو چکی تھی کہ سارے کے سارے امیدوار ہار جاتے۔تو انہوں نے اس لئے حالات کی نزاکت کو بھاپنتے ہوئے مغربی پاکستان بالخصوص پنجاب پر توجہ مرکوز کر دی جس سے اس حصے سے وہ اکثریت حاصل کر گئے۔سوال : مجیب الرحمن نے مغربی پاکستان سے امید وار کیوں نہیں کھڑے کئے ؟ جواب: مجیب الرحمن کو بھی پتہ تھا کہ مغربی حصے میں اس کو پسند نہیں کیا جاتا۔مجیب کے چھ نکات ادھر پسند نہیں کیے جاتے تھے۔مجھے مجیب کا جلسہ یاد ہے وہ ادھر آئے تو برکت علی سلیمی کے گھر پر ٹھہرے۔ایک جلسہ ہوا تھا گول باغ میں جسے اب ناصر باغ کہتے ہیں۔وہ جلسہ میں آئے تو وہاں جماعت اسلامی والوں نے ہنگامہ کر دیا۔وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلے آئے کہ مجھے تو لوگوں کے ووٹ نہیں چاہئیں۔میں تو ویسے ہی آیا تھا۔1" سوال: بیچی مجیب مذاکرات ناکام بنانے میں کس کا ہاتھ تھا؟ جواب: خود یحی کا۔آپ کا کیا خیال ہے بیٹی کوئی صدارت چھوڑنی چاہتا تھا ؟ فوج اقتدار سے ہاتھ دھونا چاہتی تھی؟ یہ سب بیٹی اور فوج کی کارستانی تھی۔اگر اس وقت مجیب وزیر اعظم بن کر چھ نکاتی ایجنڈ انا فذ کر دیتا تو ایک پاکستان کی جگہ پانچ پاکستان بن جاتے۔کیونکہ چھ نکات کے مطابق ہر صوبہ اپنی جگہ ایک خود مختار ملک کی صورت ہوتا۔اس وجہ سے یہاں مغربی پاکستان میں اس کے سیاسی پروگرام کو پذیرائی نہ مل سکی تھی۔“1 دوم: پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی پاکستان کی سالمیت کے اعتبار سے بھی قومی ضرورت تھی اور وہ یہ کہ ملک اب تک ملاؤں کی فتنہ خیزیوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا اور 1953ء کی ایجی ٹیشن نے پورے ملک کا امن غارت کر رکھا تھا اور خون ریز تصادموں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ فرقہ پرست پارٹیوں کا طوفانِ غیظ و غضب تھمنے میں ہی نہیں آرہا تھا بلکہ روز بروز اس کی تلاطم خیزیوں میں اضافہ ہورہا تھا حتی کہ انہوں نے دوسروں کی تکفیر کو اپنے انتخابی منشور کا جزواعظم بنالیا تا اپنے ہم مذہبوں کے زیادہ سے زیادہ ووٹ بٹور سکیں۔مثلاً کل پاکستان جمعیت علماء اسلام نے ستمبر 1969ء میں اپنے شائع شدہ منشور 2 کی دفعہ 8 میں مسلمان کی خود ساختہ تعریف کر کے احمدیوں کے بھی غیر مسلم ہونے کا مفروضہ پورے طمطراق سے شامل کیا جس کے مطالبہ دفعہ 9 میں لکھا: ”جو فرقے اسلام کے کسی بنیادی عقیدہ مثلاً ختم نبوت وغیرہ سے انحراف کے مر تکب ہوچکے ہیں ، انہیں غیر اسلامی قرار دیا جائے گا اور آئندہ اس قسم کے