مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 311 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 311

311 مرے۔یا بتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے اور وہی شخص ان میں سے راہ راست پر آیا جو الہام الہی پر ایمان لایا۔کیا اس میں کچھ جھوٹ بھی ہے کہ فقط اس صحیفہ کے پڑھنے والے بڑے بڑے فیلسوف کہلا کر پھر خدا کے مدبر وخالق بالا رادہ اور عالم بالجزئیات ہونے سے منکر رہے اور انکار ہی کی حالت میں مر گئے۔کیا خدا نے تم کو اس قدر بھی سمجھ نہیں دی کہ جس خط کے مضمون کو مثلاً زید کچھ سمجھے اور بکر کچھ خیال کرے اور خالد ان دونوں کے بر خلاف کچھ اور تصور کر بیٹھے۔تو اس خط کی تحریر کھلی ہوئی اور صاف نہیں کہلاتی بلکہ مشکوک اور مشتبہ اور مبہم کہلاتی ہے۔یہ کوئی ایسی دقیق بات نہیں جس کے سمجھنے کے لئے باریک عقل در کار ہو بلکہ نہایت بد یہی صداقت ہے۔مگر ان کا کیا علاج جو سراسر تحکم کی راہ سے ظلمت کو نور اور نور کو ظلمت قرار دیں۔اور دن کو رات اور رات کو دن ٹھہر اویں۔ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ مطالب دلی کو پورا پورا بیان کرنے کے لئے یہی سیدھا راستہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے کہ بذریعہ قول واضح کے اپنا مافی الضمیر ظاہر کیا جائے۔کیونکہ دلی ارادوں کو ظاہر کرنے کے لئے صرف قوت نطقیہ آلہ ہے۔اسی آلہ کے ذریعہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے مافی القلب سے مطلع ہوتا ہے۔اور ہر ایک امر جو اس آلہ کے ذریعہ سے سمجھایا نہ جائے، وہ تفہیم کامل کے درجہ سے متنزل رہتا ہے۔ہزارہا امور ایسے ہیں کہ اگر ہم ان میں فطرتی دلالت سے مطلب نکالنا چاہیں تو یہ امر ہمارے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے اور اگر فکر بھی کریں تو غلطی میں پڑ جاتے ہیں۔“ حضرت مسیح موعود نے 1882ء میں اپنی حیرت انگیز ایمانی بصیرت سے کارل مارکس و غیرہ دہر یہ مغربی فلاسفروں کے معاشی نظریات کی نسبت جو کچھ تحریر فرمایا، بالشویکی روس کے عبرت ناک انجام سے حرف بحرف درست نکلا اور دنیا پر خوب کھل گیا کہ کلام اللہ کے بغیر جو فلسفہ بھی اختراع کیا جاتا ہے وہ ناکام ونامر اور ہتا ہے۔مشہور جرمن نو مسلم محمد اسد نے اپنی کتاب The Road To Macca میں اپنے سفر روس (1926ء) کا تذکرہ کیا ہے اور صفحہ 299 پر اپنے مشاہدات و تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” سوویٹ روس کے بارے میں میر اسب سے پہلا اور دیر پا تاثر وہ ہے جو مرد کے ریلوے سٹیشن پر میرے ذہن میں رقم ہوا۔یہ ایک بہت بڑا پوسٹر تھا جس میں 5"