مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 305
305 جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اگر اسلام کو ٹھیک ٹھیک نافذ کیا جائے گا تو اس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کے ذاتی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔کسی کی آمدنی کم ہو جائے گی، کسی کے خرچ میں اضافہ ہو گا ، کسی کی لیڈری جاتی رہے گی، کسی کے منصب پر حرف آئے گا۔کسی کی بے مہار آزادی میں فرق پڑے گا۔کسی کے عیش و تنعم میں کمی ہوگی اور ایسے افراد جو ملکی مسائل کو اسی قسم کے مفادات کے دائرے میں رہ کر سوچتے ہیں ، وہ یقینا ایسے احکام کے نفاذ کی مخالفت کریں گے یا کم از کم انہیں ناگوار سمجھیں گے جو ان کے ذاتی مفادات کے خلاف ہیں۔اس کے علاوہ اسی ملک میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی تعداد کم ہے لیکن اثر ورسوخ خاصا ہے، اور وہ نظریاتی طور پر اسلامی قانون کے بجائے لادینی طرز زندگی کو پسند کرتے ہیں اور نفاذ اسلام کے ہر اقدام کی کسی نہ کسی حیلے بہانے سے مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایسے اسلام کے ٹھیک ٹھیک نافذ ہونے سے کیسے خوش ہو سکتے ہیں ؟ لہذا سب خوش رہیں کی پالیسی کے ساتھ ” شریعت کا نفاذ عملا ممکن ہی نہیں ہے۔اگر شریعت پر عمل کرنا ہے اور اللہ کے لئے کرنا ہے تو اس کے لئے کچھ حلقوں کی مخالفت مول لینی ہی پڑے گی۔اگر ہم اس مخالفت کے لئے تیار نہیں ہیں تو نفاذ شریعت کے کام سے ہمیشہ کے لئے ہاتھ دھو لینے چاہئیں۔“ حواشی: "1 7" ”ذوالفقار علی بھٹو “صفحہ 131 تالیف جناب ایم ایس نیاز۔ناشر مقبول اکیڈمی چوک انار کلی بازار۔لاہور۔طبع اول 1976ء۔2 انتخاب 1970ء میں موصوف پیپلز پارٹی ملتان کے چیئر مین تھے۔4 5 3 " جنگ "جمعہ میگزین 3 ستمبر 1982، صفحہ 4 کالم 5-4۔ايضا صفحہ 5 کالم 3-2 اقبال اور حنیف رامے کے تصور سوشلزم کو قائد اعظم کی طرف منسوب کرنا سراسر زیادتی اور خلاف حقیقت بات ہے جس پر قائد اعظم کی تحریرات وخطابات گواہ ہیں۔6 ماہنامہ ”ترجمان القرآن اکتوبر 2003ء صفحہ 122۔7 ” نفاذ شریعت اور اس کے مسائل“ صفحہ 184-182۔مکتبہ دارالعلوم کراچی۔اشاعت جون 1990ء۔