مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 304 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 304

304 سے ہمارا فرض ہے کہ اسے مان کر اس پر عمل کریں۔خواہ عوام اس سے خوش ہوں یا ناراض ہوں۔اتباع شریعت کا مقصد مخلوق کو نہیں، خالق کو راضی کرنا ہے۔لہذا اس کے نفاذ کے پیچھے قوت حاکمہ عوام کی مرضی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔”اسلام“ عوام کے پیچھے پیچھے چلنے اور ان کی خواہشات کی پیروی کے لئے نہیں بلکہ ان کی قیادت اور ہنمائی کرنے اور انہیں نفسانی خواہشات کی غلامی سے نکالنے کے لئے آیا ہے۔قرآن کریم کا ارشاد ہے: وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَ هُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ اگر حق ان لوگوں کی خواہشات کے تابع ہو جائے تو آسمان وزمین میں فساد پھیل جائے۔"اسلام" تو ایسے ماحول میں آیا تھا کہ اس کے ارد گرد عوام کی اکثریت شروع میں اسے ناپسند کرتی تھی، اگر عوام کی مرضی “ ہی فیصلہ کن ہوتی تو اسلام کو کبھی بھی نافذ ہونا نہیں چاہیے تھا۔وہ تو ہمیشہ مخالفین کے نرغے میں پروان چڑھا ہے۔اس نے لوگوں کے طعنے سہہ کر اور علامتیں سن کر اپنی راہ بنائی ہے اور عوام کی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے ان کی اصلاح کو اپنی منزل مقصود قرار دیا ہے۔لہذا ”اسلام“ کو عوام کی مرضی “ اور ”جمہوریت“ کے تابع قرار دینا درحقیقت اسلام کے بنیادی تصور ہی سے متضاد ہے۔پھر یہ بھی عجیب ستم ظریفی ہے کہ عموماً سب کے لئے قابل قبول ہونے کے اس ” نظریئے کی ساری زدبیچاری ”شریعت“ ہی پر پڑتی ہے۔یہ خیال ہمارے ریت پسند حکام اور دانشوروں کو بہت کم آتا ہے کہ جو قوانین ہم پر چالیس سال سے مسلط چلے آرہے ہیں ، وہ کتنے افراد کیلئے ” قابل قبول ہیں ؟ وہ کون سے عوام ہیں جنہوں نے ان قوانین کوسند منظوری عطا کی ہے ؟ اور ”سب کے لئے قابل قبول “ کی یہ شرط ان قوانین پر کیوں لاگو نہیں ہوتی ؟۔وہاں تو حال یہ ہے کہ ایک بدیسی اور غیر مسلم حاکم ہمارے سینوں پر بندوق رکھ کر یہ قوانین ہمارے سروں پر مسلط کر گیا اور ہم ہیں کہ انہیں چالیس سال سے اپنے اوپر نہ صرف لادے چلے آہے ہیں، بلکہ مسلمان عوام کی فریاد و فغاں کے باوجود اس بات پر مصر ہیں کہ یہ قوانین غیر محدود مدت تک عوام پر مسلط رہیں گے ، تا آنکہ ایسی ”شریعت“ وجود میں نہ آجائے