مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 303 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 303

303 فتویٰ دیا تو جمعیت اس سیاسی فتوی بازی کے خلاف سینہ سپر ہو گئی۔جمعیت کا موقف یہ تھا کہ اگر فتویٰ بازی کی اس مہم کو روکا نہ گیا تو ملک کی ایک بڑی اکثریت غیر مسلم قرار پائے گی۔جمعیت نے نہ صرف ہم پر بلکہ اکثر اہل ملک پر ثابت کر دیا تھا کہ جمعیت علماء اسلام میں رجعت پسندانہ طرز فکر کی گنجائش نہیں۔“ یہاں بھٹو دور حکومت کے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد حنیف رامے صاحب کے اشتراکی خیالات کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: ” بچے کھچے پاکستان میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آگئی۔ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم بن گئے۔میں پنجاب کا وزیر اعلیٰ مقرر ہوا۔میں تو ایک سوچ کے تحت سیاست میں شامل ہوا تھا۔ابتد ا بھٹو مرحوم نئی جماعت نہیں بنانا چاہتے تھے۔میں نے اور میرے جیسے کچھ لوگوں ہی نے انہیں اس پر آمادہ کیا تھا۔میں پنجاب میں پہلا شخص تھا جس نے 1966ء میں ان سے اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد مل کر الاشتر اکسیۃ الاسلامیہ کے حوالے سے ایک نئی جماعت بنانے کے لئے کہا تھا۔اس وقت مصر میں صدر ناصر کا انقلاب آچکا تھا اور اسلامی سوشلزم کے فلسفے کا عالم عرب میں بڑا چرچا تھا۔یہی فلسفہ اقبال، قائد اعظم 5 اور لیاقت علی خان کے افکار میں بھی نمایاں تھا۔پھر میرے ہفت روزہ نصرت نے نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین مسٹر اے۔کے سومار اور میرے در میان اسلامی سوشلزم کے موضوع پر ہونے والی ملک گیر بحث پر ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کر رکھا تھا۔اگر چہ پیپلز پارٹی نے ”اسلام ہمارا دین ہے“ اور سوشلزم ہماری معیشت ہے“ کے دوالگ الگ نعرے دیئے تھے لیکن میری سوچ اور عوامی دباؤ کے تحت یہ دونوں نعرے ”اسلامی سوشلزم “ کی ایک اصطلاح میں ڈھل گئے تھے۔“6 اس ضمنی بات کی طرف اشارہ کر کے ہم دوبارہ پہلے موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اشتراکی وحدت فکر کے علاوہ بھٹو صاحب اور جمعیتہ کے دیوبندی علماء کا عوامی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فیصلہ کرانے کا دوسرا نام ہی سوشلزم ڈیما کریسی ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مشہور دیوبندی مفتی محمد شفیع صاحب کے بیٹے محمد تقی عثمانی صاحب ( سابق جسٹس شریعت بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان ) تحریر کرتے ہیں: 6" ”اسلام “ اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جانے کا نام ہے، اور اس کی ”شریعت“ کے واجب العمل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کا حکم ہے اور ایک بندے کی حیثیت